ہل یونان کے معاشی حالات: جیسے پہلے بتایا گیا ہے کہ وہاں زرعی زمینوں کی مقدار بہت کم تھی اس لئے خوشحال کسانوں کے لئے تو یہ ممکن تھا کہ وہ اپنے محدود قطعات اراضی میں زیتون کے پودوں کی کاشت کریں اور طویل عرصہ تک ان پودوں کی نگہداشت کے اخراجات برداشت کریں۔ لیکن غریب کسانوں کے لئے یہ طریقہ کار قابل عمل نہ تھا۔ وہ دولت مند ہمسایوں سے قرض لینے پر مجبور ہو جاتے قرض خواہ گراں شرح سود پر انہیں قرض دیتے۔ مقروضوں کے لئے قرضوں کی ادائیگی ایک کٹھن مرحلہ تھا اس محدود آمدنی سے اپنا اور بال بچوں کا پیٹ پالیں یا قرضہ ادا کریں؟ اس سوال کا ان کے پاس کوئی جواب نہ تھا جب وہ مقررہ میعاد پر قرض نہ ادا کر سکتے تو ان کی جائیداد ان سے چھین لی جاتی بعض اوقات شخصی آزادی سے بھی انہیں محروم ہونا پڑتا۔ایسے شخص کو مجبور کیا جاتا کہ قرض خواہ کے انگوروں کے باغوں میں بسلسلہ ادائیگی قرض مزدوری کرتا رہے۔
(تاریخ تہذیب، صفحہ 77)
غریب لوگ بڑی بے اطمینانی کاشکار تھے، غیر ملکی تجارت نے دو نئے طبقے بھی پیدا کر دیئے تھے، ایک تاجروں، جہازوں کے مالکوں، بافندوں، کمہاروں اور لوہاروں کا گروہ تھا۔ دوسرا جہازوں پر قلیوں اور ملاحوں کا گروہ ۔ دونوں گروہ بڑے باہمت اور پرجوش تھے وہ اس بات کو ماننے کے لئے تیار نہ تھے کہ سیاسی اختیارات صرف امراء اور بڑے بڑے مالکان اراضی کے ہاتھ میں ہی رہیں۔
یونان کے سیاسی حالات: ہومر سے قبل ایک مطلق العنان بادشاہ حکمران ہوا کرتا تھا۔ ہومر کے دور کے بعد امراء کے طبقہ نے تدریجا بادشاہوں کے اختیارات حاصل کر لئے بادشاہ یا تو ناپید ہو گئے یا برائے نام رہ گئے اس لئے پرانی بادشاہی کی جگہ حکومت عدیده ( OLIGARCHY) (عالی گارچی) نے لے لی یعنی چند افراد کا مجموعہ حکمران بن گیا ساتویں صدی قبل مسیح تک امراء کے خلاف قرضہ سے دبے ہوئے کسانوں اور نئے تجارتی طبقوں نے حملے شروع کر دیئے حکومت عدیدہ کے ذمہ دار ارکان عموماً عسکری اہمیت سے بے بہرہ ہوا کرتے تھے وہ جنگوں میں شہروں کی حفاظت سے قاصر رہے اس طرح ہر شہری ریاست میں عدیدی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا پھر زمام اختیار فرد واحد کے ہاتھ میں آگئی ان حکومتوں کو استبدادی حکومت کہا جاتا۔ یونان کی دو مشہور ریاستوں ایتھنز اور سپارٹا نے سراسر مختلف نظام ہائے حکومت کو نشو و ارتقاء دیا۔
سپارٹا کا نظام: اس کا دستور ذات پات کے سخت اور شدید نظام پر مبنی تھا وہاں کے باشندوں کو تین گروہوں میں تقسیم کر دیا گیا۔
1) شہری: سپارٹا کے اصلی باشندے جو پوری آبادی کا پانچ سے دس فیصد تک تھے یہی طبقہ حکمران تھا۔ فوج انہیں کے جوانوں پر مشتمل تھی وہ کوئی اور کام نہ کرتے تھے۔
2) غلام: ان کا تناسب سپارٹا کے اصلی باشندوں کے مقابلے میں دس اور ایک تھا اکثریت ان کی تھی۔ کھیتی باڑی وہی کرتے انہیں زمینوں سے وابستہ کر دیا گیا تھا کچھ لوگ بطور مزدور کھیتوں میں کام کرتے یا ان کے شخصی ملازم ہوتے۔
3) عوام: تیسرا طبقہ کسانوں ،کان کنوں، تاجروں اور دیگر شہری سرگرمیاں انجام دینے والوں کا تھا۔ اگرچہ یہ آزاد تھا لیکن ان کو کوئی سیاسی حق حاصل نہ تھا یہ اہل سپارٹا میں نہ شامل ہو سکتے تھے اور نہ ان میں شادی کر سکتے تھے۔
سپارٹا کے شہریوں کو عسکری تربیت سختی سے دی جاتی تھی جو لوگ صحت کے لحاظ سے کمزور یا عیب دار ہوتے تھے انہیں ایک غار یا پہاڑ کے ویرانے میں چھوڑ آتے تھے تاکہ وہاں مر جائیں یا کوئی درندہ انہیں پھاڑ ڈالے یا کوئی رحم دل غلام انہیں اپنا بچہ بنالے۔ سات سال کی عمر میں بچے کی تربیت شروع ہوتی ان بچوں کو والدین سے الگ ہونا پڑتا جسمانی ورزشوں کے ایک سخت امتحان سے انہیں گزرنا پڑتا حب وطنی کے درس کے ساتھ ساتھ انہیں پڑھنا، گانا بھی سکھایا جاتا۔ زیادہ زور کشی، دوڑ، اسلحہ جنگ کے استعمال پر دیا جاتا انہیں چوری کے طریقے بھی سکھائے جاتے اور انہیں یہ تربیت بھی دی جاتی کہ وہ چوری کرتے وقت گرفتاری سے اپنے آپ کو کس طرح بچائیں انہیں یہ تعلیم دی جاتی کہ اگر کوئی بچہ گرفتار ہو جائے تو وہ اقبال جرم نہ کرے ۔ سپارٹا کے ایک بچہ کی کہانی آپ بھی سن لیجئے اس نے لومڑی چرائی اسے اپنے کپڑے میں چھپا لیا۔ اکابر اس سے پُرسش کرتے رہے اس اثنا میں لومڑی بچے کا پیٹ کاٹ کاٹ کر کھاتی رہی یہاں تک کہ بچے نے جان دے دی مگر چوری کا اعتراف نہ کیا۔ اس بچے کو ہیرو کی حیثیت حاصل ہو گئی۔ لڑکیوں کے لئے بھی حکومت کی نگرانی میں نہایت سخت ورزشوں کا انتظام تھا تاکہ وہ زیادہ صحت مند مائیں بن سکیں وہ بھی فولادی اعصاب پیدا کر لیتی تھیں اپنے بچوں کو جنگ کے لئے بھیجتیں تو نصیحت کرتیں کہ دیکھو اپنی ڈھال لے کر لوٹنا یا اس پر تمہاری لاش آنی چاہئے۔ اہل سپارٹا نے زندگی کے عسکری پہلو پر ضرورت سے زیادہ زور دیا لیکن زندگی کے دوسرے پہلوؤں کو بالکل نظر انداز کر دیا وسائل کے باوجود اقتصادی طور پر وہ لوگ پسماندگی کا شکار رہے حالانکہ وہاں کی زمین زرخیز تھی کچے لوہے کے معدنی ذخائر بھی موجود تھے۔
ایتھنز: اس ریاست میں عورتوں کو سیاسی حقوق حاصل نہ تھے ان کا اصل وظیفہ یہی تھا کہ گھروں میں رہیں کھانا پکائیں اور بچوں کی پرورش کریں ایتھنز کی پوری آبادی تین لاکھ پندرہ ہزار تھی اس میں سے ایک لاکھ ستر ہزار شہری تھے ان میں سے تیس ہزار بالغ مرد تھے انہیں کو موثر شہریت حاصل تھی ایک لاکھ پندرہ ہزار غلام، تیس ہزار اجنبی نہ انہیں زمین خریدنے کا حق تھا اور نہ وہ وہاں کی شہریت کے حقوق حاصل کر سکتے تھے چاندی کی کانوں میں کام کرنے والے مزدورں پر شدید مظالم کئے جاتے وہ پا بجولاں رکھے جاتے تھے ان سے زیادہ کام لیا جاتا ارسطو نے غلام کی جو تعریف کی ہے اسے پڑھ کر انسان پر کپکپی طاری ہو جاتی ہے اور ارسطو جیسے فلسفی کی سنگدلی پر دل پسیج جاتا ہے غلام کی تعریف کرتے ہوئے ارسطو نے کہا یہ ایک آلہ ہے جس میں جان ہو یعنی ارسطو کے نزدیک غلام انسان نہیں یہ ایک مشین ہے جس میں جان ڈال دی گئی ہو اور وہ تمام انسانی احساسات و شعور سے یکسر محروم ہو۔
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲