ساسانی خاندان کے طویل عہد حکومت میں ایران کی سیاسی ، مذہبی ، اخلاقی اور معاشی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ قارئین کو معلوم ہو جائے کہ آفتابِ اسلام کے طلوع ہونے سے قبل اس عظیم مملکت کے شہری کس قسم کی زندگی بسر کیا کرتے تھے اس کے بعد اس وقت کی مشہور دوسری عالمی طاقت یعنی سلطنت ” رومہ ” اور اس میں بسنے والے شہریوں کی زندگی کے مختلف گوشوں کے بارے میں کچھ عرض کرنا ضروری سمجھتے ہیں لیکن چونکہ رومی یونانیوں کے جانشین ہیں ان کے سیاسی، معاشی اور معاشرتی نظریات بڑی حد تک یونانی حکماء کے نظریات سے متاثر ہیں اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اختصار کے ساتھ یونان اور اہل یونان کا بھی تذکرہ کر دیا جائے کیونکہ یہی وہ خطہ ہے جہاں کے نابغہ روزگار فضلاء نے علم و حکمت کی قندیلیں روشن کیں اور تہذیب و تمدن کا وہ تصور پیش کیا جس کی روشنی سے وہ خطہ اس وقت جگمگانے لگا جب کہ سارا یورپ جہالت اور توہم پرستی کی تہہ در تہہ تاریکیوں میں ڈوبا ہوا تھا۔
یونانی تہذیب کی تشکیل میں اس کے محل وقوع کا بہت بڑا حصہ ہے یونان کا خطہ بحر روم کے شمالی ساحل پر واقع ہے یہ مختلف پہاڑوں کے سلسلوں کا مجموعہ ہے۔ جن کے درمیان وادیاں ہیں۔ جن میں کھیتی باڑی کی جاسکتی ہے دشوار گزار پہاڑوں کی وجہ سے باہمی آمد و رفت از حد دشوار اور کٹھن تھی اس لئے اس وقت کے ناقص نظام مواصلات اور آمد و رفت کے ذرائع کے فقدان کے باعث ایک متحدہ حکومت قائم کرنا بہت مشکل تھا۔ اسی وجہ سے یونان کا خطہ بے شمار چھوٹی چھوٹی شہری ریاستوں پر مشتمل تھا وہ اپنے داخلی اور خارجی معاملات میں کافی حد تک آزاد تھیں زراعت صرف پہاڑوں کے درمیان وادیوں میں ہو سکتی تھی اس لئے مزروعہ رقبہ بہت محدود تھا اجناس خوردنی اتنی مقدار میں پیدا کی جا سکتی تھیں جن سے وہاں کے باشندے بمشکل گزر اوقات کر سکتے تھے بحر روم کے دوسرے علاقوں کی طرح یہاں بھی بارشیں عموماً ماہ مئی سے ماہ ستمبر تک کے درمیانی عرصہ میں ہوتی ہیں۔ گرمی کا موسم کافی طویل ہوتا ہے دھوپ بہت تیز ہوتی ہے مگر سمندری ہواؤں کے باعث گرمی ناقابل برداشت نہیں ہوتی وادیاں اور میدان پہاڑوں سے محصور ہیں موسم برسات میں ان دریاؤں اور ندیوں میں طغیانی آجاتی ہے اور پانی تیزی سے بہہ جاتا ہے، موسم برسات کے بعد یہ ندیاں نالے یا تو بالکل خشک ہو جاتے ہیں یا ان میں برائے نام پانی رہ جاتا ہے۔
آبادی کی ضرورت مقامی چشموں سے پوری ہوتی ہے لیکن چشموں کا پانی اتنا زیادہ نہیں ہوتا جس سے کاشتکاری کی جا سکے۔ بحر روم کے ساحل پر ہونے کی وجہ سے وہاں کے مہم جو اور حوصلہ مند شہری بحری تجارت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے اور بحری قزاقی بھی ان کا ایک محبوب مشغلہ تھا سکندر اعظم کے زمانہ تک یہی کیفیت رہی لیکن اس عظیم فاتح نے مقدونیہ کی چھوٹی سی ریاست کو وہ عروج بخشا کہ یونان کی تمام چھوٹی چھوٹی شہری ریاستیں اس کی باج گزار بن گئیں۔ سکندر نے اپنی فتوحات کا سلسلہ یہاں تک وسیع کیا کہ اس کی فوجیں پنجاب تک اپنی فتح کے علم گاڑتی ہوئی بڑھتی چلی گئیں اور یونان ایک بہت بڑی سلطنت کا مرکز بن گیا۔قدیم یونان کے حالات معلوم کرنے کے لئے “ھومر” کی دو رزمیہ نظمیں ایلیڈ (ALIAD) اور اوڈیسی (ODY SSEY) قابل اعتماد ماخذ ہیں جن کا زمانہ تالیف آٹھویں یا نویں صدی قبل مسیح ہے۔
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲