قسط نمبر 26 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ:تئیسواں)
(ایران ~ حصہ تئیسواں)
(ایران کے معاشرتی حالات ~ حصہ دوئم)
آپ بآسانی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جو لوگ وسیع و عریض جاگیروں کے مالک تھے جن کے پاس دولت کے انبار تھے جو بآسانی حکومت کے ٹیکسوں اور واجبات کو ادا کر سکتے تھے انہیں تو ان ٹیکسوں کی ادائیگی سے بری الذمہ قرار دے دیا گیا تھا اور سارا بوجھ نادار اور مفلوک الحال عوام پر ڈال دیا گیا تھا۔ اس وجہ سے امیر اور غریب میں جو خلیج پہلے بھی وسیع تھی وہ مزید وسیع ہو گئی اور عوام کو حکومت کے لگان ادا کرنے میں گونا گوں دقتوں اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ آرتھر لکھتے ہیں۔ گورنمنٹ کی آمدنی کے بڑے بڑے ذرائع خراج اور شخصی ٹیکس تھے شخصی ٹیکس کی ایک خاص رقم سالانہ مقرر ہو جاتی تھی جس کو محکمہ مالیات مناسب طریقہ سے ادا کنندگان پر تقسیم کر دیتا تھا خراج کی وصولی اس طرح ہوتی تھی کہ زمین کی پیداوار کا حساب لگا کر ہر ضلع سے اس کی زرخیزی کے مطابق چھٹے حصہ سے ایک تہائی تک لے لیا جاتا تھا، بایں ہمہ خراج اور ٹیکس کے لگانے اور وصول کرنے میں محصلین، خیانت اور استحصال بالجبر کے مرتکب ہوتے تھے، اور چونکہ قاعدہ مذکورہ کے مطابق مالیات کی رقم سال بسال مختلف ہوتی رہتی تھی یہ ممکن نہ تھا کہ سال کے شروع میں آمدنی اور خرچ کا تخمینہ ہو سکے بسا اوقات نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ اِدھر جنگ چھڑ گئی اور اُدھر روپیہ ندارد۔ ایسی حالت میں پھر غیر معمولی ٹیکسوں کا لگانا ضروری ہو جاتا تھا اور تقریباً ہمیشہ اس کی زد مغرب کے مال دار صوبوں خصوصاً بابل پر پڑتی تھی۔
(ایران بعہد ساسانیاں، صفحہ ۱۲۰ – ۱۵۹)
مختلف قسم کے لگانوں، ٹیکسوں، خراجوں اور دیگر ذرائع سے سرکاری خزانہ میں جو دولت جمع ہوتی اس میں سے بہت کم حصہ عوام الناس کی فلاح و بہبود کے لئے خرچ کیا جاتا تھا جو سلاطین آئین جہاں بانی سےآگاہ تھے وہ ملک میں سڑکیں بنانے، دریاؤں پر پل تعیر کرنے، زیر کاشت زمینوں کو آبپاش کرنے کے لئے دریاؤں سے نہریں نکالنے اور بند تعمیر کرنے کی طرف کافی توجہ دیتے تھے۔نوشیرواں جب تخت نشین ہوا تو اس نے بزرجمہر کو جو اس کے لڑکے کا اتالیق (معلم) تھا، اپنا وزیر بنایا اس نے جاگیرداروں کی فراہم کردہ غیر منظم فوج پر اعتبار کرنے کے بجائے ایک باقاعدہ فوج منظم کی جس کو جنگ کے قواعد و ضوابط کی تعلیم دی گئی اور اس کو اس قابل بنا دیا گیا کہ وہ ہمہ وقت اپنے ملک کے دفاع کے لئے اور دشمن کے کسی ناگہانی حملہ کو پسپا کرنے کے لئے تیار رہے۔اس نے شہروں کو پانی فراہم کرنے کے لئے زرعی کھیتوں کی آبپاشی کے لئے ڈیم تعمیر کئے اور نہریں کھدوائیں اس نے بہت سی بنجر زمینوں کو قابل کاشت بنایا اور ان زمینوں میں کھیتی باڑی کرنے والے کسانوں کو مویشی آلات کشاورزی اور بیج فراہم کئے۔اس نے پلوں اور سڑکوں کی مرمت کی اور ان کی حفاظت کا بندوبست کر کے تجارت کو بڑا فروغ دیا۔ اس نے اپنی ساری طاقت اپنی رعایا اور حکومت کی خدمت کے لئے وقف کر دی اس نے بچوں کو تعلیم دینے کے لئے سرکاری خزانہ سے فنڈز مہیا کئے یتیم اور غریب بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے اس نے حکومتی سطح پر اہتمام کیا اس نے اپنی فیاضی اور دریا دلی سے اپنے اردگرد فلسفیوں ، طبیبوں اور علم دوست لوگوں کو ہند اور یونان کے دور دراز علاقوں سے اپنے پاس جمع کیا اور وہ ان کی محفل منعقد کرتا اور عام زندگی اور حکومت کے مسائل کے بارے میں ان سے تبادلہ خیال کرتا۔ اس کی ایک محفل میں یہ سوال پیش کیا گیا کہ سب سے بڑی بد قسمتی کیا ہے؟ یونان کے ایک فلسفی نے اس کا یوں جواب دیا۔ مفلسی اور بڑھاپے کی کمزوری، ایک ہندو نے جواب دیا کہ ایک بیمار جسم میں پریشان دل آخر میں خسرو کے وزیر بزرجمہر نے کہا میرے نقطہ نظر میں سب سے بڑی بد قسمتی یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی زندگی کے انجام کو قریب آتے ہوئے دیکھے، اس سے پیشتر کہ اس نے کوئی نیک کام کیا ہو ۔ سب حاضرین اور خود نوشیرواں نے اس جواب کو بہت پسند کیا۔
(دی ایج آف فیتھ، صفحہ ۱۴۵)
لیکن بہت کم ایسے سلاطین تھے جو ملکی آمدنی کو رفاہ عامہ پر خرچ کرتے۔ بادشاہ کا اپنا ذاتی خزانہ بھی ہوتا تھا، جس میں قیمتی اشیاء جمع کی جاتیں تھیں، غنیمت کا سارا مال بادشاہ کی ذاتی ملکیت شمار ہوتا۔ بعض وسیع و عریض جاگیریں بادشاہ کی ذاتی ملکیت ہوتیں جس سے اس کو بے پناہ آمدنی ہوتی۔ علاقہ آرمینیا کی سونے کی کانوں کی ساری آمدنی بادشاہ کی ذاتی آمدنی تھی۔ باقاعدہ ٹیکسوں کے علاوہ رعایا سے نذرانے لینے کا بھی دستور تھا جس کو آئین کہتے تھے اس آئین کے مطابق عید نوروز اور مہرگان کے موقعوں پر لوگوں سے جبرا تحائف وصول کئے جاتے تھے۔ (ایران بعہد ساسانیاں، صفحہ ۱۶۱)
اس بے پناہ آمدنی کے باعث بادشاہوں کی زندگیاں عیش و عشرت میں گزرتی تھیں تکلفات زندگی اور تعیشات اور سامان آرائش کی وہ بہتات تھی اور اس میں ان باریکیوں اور نکتہ سنجیوں سے کام لیا جاتا تھا کہ عقل حیران رہ جاتی تھی۔ فارسی مورخ شاہین مکاریوس کے بیان کے مطابق کسری پرویز کے پاس بارہ ہزار عورتیں تھیں، پچاس ہزار اصیل گھوڑے، اس قدر سامان تعیش محلات نقد و جواہرات تھے کہ ان کا اندازہ لگانا مشکل تھا محل اپنی شان و شکوه اور عظمت میں جواب نہیں رکھتا تھا۔ مکاریوس لکھتا ہے تاریخ میں مثال نہیں ملتی کہ کسی بادشاہ نے ان شاہان ایران کی طرح داد عیش دی ہو۔ مورخین نے فرش بہار کی ( جس پر بیٹھ کر امراء ایران موسم خزاں میں شراب پیتے تھے ) تفصیل بیان کرتے ہوئے لکھا ہے یہ ساٹھ گز مربع تھا۔ تقریباً ایک ایکڑ زمین کو گھیر لیتا اس کی زمین سونے کی تھی جس میں جا بجا جواہرات اور موتیوں کی گلکاری تھی ۔چمن تھے جن میں پھول دار اور پھل دار درخت قائم تھے درختوں کی لکڑی سونے کی، پتے حریر کے کلیاں سونے چاندی اور پھل جواہرات کے بنائے گئے تھے ارد گرد ہیرے کی جدول (ندی) تھی، درمیان میں روشیں اور نہریں بنائی گئی تھیں اور یہ سب جواہرات کی تھیں۔ موسم خزاں میں تاجدارانِ آل ساسان اس گلشن بے خزاں میں بیٹھ کر شراب پیا کرتے۔ اور دولت کا ایک حیرت انگیز کرشمہ نظر آتا۔ جو زمانہ نے کبھی اور کہیں نہ دیکھا تھا۔
(دی ایج آف فیتھ، صفحہ ۱۴۹)
بادشاہوں کے علاوہ ان کے امراء اور رؤساء بھی داد عیش دینے میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے میں کوشاں رہتے تھے۔ ان کے لباس ، از حد قیمتی ہوتے تھے اور اس سے ان کی جلالتِ شان کا اندازہ لگایا جاتا تھا۔ اور اگر کوئی امیر کبیر آدمی اپنی شان کے مطابق لباس نہ پہنتا تو اس کو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا اور اسے کنجوس و بخیل کہہ کر مطعون کیا جاتا ان کے امراء جو کلاہ سر پر پہنتے تھے اس کی قیمت ایک لاکھ ہوتی تھی جس میں جواہرات جڑے ہوئے ہوتے تھے۔
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲