قسط نمبر28 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ: پچیسواں)
(ایران ~ حصہ پچیسواں)
(ایران کے اخلاقی حالت ~ بچہ دوئم)
قباذ کی حکومت کو جب دس سال پورے ہو گئے تو موبدان موبد اور جتنے بڑے علماء اور اعیان مملکت تھے جمع ہوئے اور انہوں نے کیقباد کو تاج و تخت سے معزول کر دیا اور اس کے بھائی جامسپ کو اپنا بادشاہ بنا لیا۔ انہوں نے کیقباد کو کہا کہ تو نے مزدک کی پیروی اختیار کی مزدک اور اس کے حواریوں نے لوگوں پر جو ظلم و ستم توڑے اس میں تم ان کے معاون ثابت ہوئے ۔ اب تمہاری نجات کی اس کے علاوہ کوئی صورت نہیں کہ تم اپنے آپ کو ہمارے حوالے کر دو۔ ہم تمہیں ذبح کریں اور آگ کے سامنے تمہاری قربانی پیش کریں اس نے اپنے آپ کو ان کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا، چنانچہ اسے قید کر دیا گیا۔ اس کے مرنے کے بعد نوشیروان تخت نشین ہوا اس نے مزدک اور اس کے ماننے والوں کو تہ تیغ کر دیا اس طرح یہ فتنہ فرو ہوا۔
ول ڈیورانٹ اپنی کتاب “دی ایج آف فیتھ” (THE AGE OF FAITH) میں اس واقعہ کو یوں بیان کرتا ہے ۔ ۴۹۰ء کے قریب مزدک جو ابتدا میں زرتشتی مذہب کا پیشوا تھا اس نے دعوی کیا کہ وہ خدا کا فرستادہ ہے اور پرانے عقیدہ کی تبلیغ کے لئے بھیجا گیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ تمام مرد مساوی حیثیت رکھتے ہیں اور کوئی آدمی دوسرے سے زیادہ کسی چیز کی ملکیت کا حق نہیں رکھتا۔ جائیداد اور شادی انسان کی ایجاد کردہ ہیں اور یہ بڑی خطرناک غلطیاں ہیں تمام چیزیں اور تمام عورتیں ، تمام مردوں کی مشترکہ ملکیت ہونی چاہئیں اس نے چوری، زنا، محرمات سے بدفعلی کو جرائم کی فہرست سے نکال دیا، اگرچہ ان کے ساتھ نکاح کرنے کی پہلے بھی اجازت تھی۔ اور کہا کہ در حقیقت یہ اعمال جائیداد اور شادی کے خلاف فطری احتجاجات میں غریبوں نے اور کئی دوسرے لوگوں نے اس کی دعوت کو بڑی خوشی سے سنا لیکن خود مزدک کو اس وقت بڑی حیرت ہوئی جب ایک بادشاہ اس کے پیرو کاروں میں شامل ہو گیا۔ اس کے پیرو کاروں نے جائیدادوں کو لوٹنا شروع کر دیا وہ صرف لوگوں کے گھروں کو ہی نہیں لوٹتے تھے بلکہ امیر آدمیوں کی بیویاں بھی ان کی غارتگری کا نشانہ بنتیں، وہ ان کی خوبصورت کنیزوں کو اپنے استعمال کے لئے اٹھا کر لے جاتے۔ جو امراء بادشاہ کی اس حرکت سے غضبناک ہوئے انہوں نے اس کو قید کر دیا اور اس کے بھائی کو تخت پر بٹھا دیا۔ تین سال تک وہ ایک قلعہ میں محبوس رہا۔ وہاں سے وہ فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا پھر ایک بادشاہ کی امداد سے 499ء میں وہ کھویا ہوا تخت دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ اپنی طاقت کو محفوظ کرنے کے بعد اس نے کمیونسٹوں پر اپنی توجہ مبذول کی اس نے مزدک اور اس کے ہزارہا پیروکاروں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ۔
(دی ایج آف فیتھ، صفحہ 144)
علامہ ابن اثیر رحمۃ اللہ علیہ “الکامل “میں مزدک کے انجام کے بارے میں لکھتے ہیں: قباذ نے اپنے عہد حکومت میں جب مزدک کی پیروی شروع کر دی تو اپنی مملکت کے صوبوں کے گورنروں کو بھی اس کی پیروی کی دعوت دی اس وقت حیرہ کا گورنر منذر بن ماء السماء تھا اس کو بھی دعوت دی کہ وہ مزدک کی پیروی اختیار کرے لیکن اس نے انکار کر دیا۔ چنانچہ بادشاہ نے منذر کو حیرہ کی گورنری سے معطل کر دیا حارث بن عمرو الکندی کو بادشاہ نے جب یہ دعوت دی تو اس نے اس دعوت کو قبول کر لیا۔ چنانچہ قباذ نے اس کو اپنے منصب پر برقرار رکھا۔ جب قباذ مر گیا اور نوشیرواں تخت نشین ہوا منذر کو جب یہ اطلاع ملی تو وہ نوشیرواں کے دربار میں حاضری کے لئے پیش ہوا وہ جانتا تھا کہ نوشیرواں اپنے باپ کے عقیدہ کے سخت مخالف ہے چنانچہ نوشیرواں نے لوگوں کو دربار شاہی میں حاضری کا اذن عام دیا تو ان حاضر ہونے والوں میں دو ممتاز شخصیتیں بھی تھیں۔ پہلے مزدک داخل ہوا پھر منذر ۔
نوشیرواں نے دونوں کو دیکھ کر کہا۔ میری زندگی کی دو آرزوئیں تھیں۔ میں امید کرتا ہوں کہ خدا نے ان دونوں آرزوؤں کو پورا فرما دیا ہے۔ مزدک نے پوچھا اے شہنشاہ! وہ کون سی دو آرزوئیں ہیں نوشیرواں نے کہا میری ایک آرزو تو یہ تھی کہ اس باغیرت اور با حمیت شخص کو یعنی المنذر کو اپنے عہدہ پر بحال کروں۔ دوسری آرزو یہ تھی کہ میں ان زندیقوں کو موت کے گھاٹ اتار دوں ۔ مزدک نے کہا کیا تیرے بس میں ہے کہ تو تمام انسانوں کو تہ تیغ کر دے (کیونکہ اس کے زعم میں یہ تھا کہ تمام اہل ایران اس کے مذہب کو قبول کر چکے ہیں ) نوشیرواں نے غصے سے بے قابو ہو کر کہا اے زانیہ کے بیٹے ! تو ابھی تک یہاں موجود ہے خدا کی قسم ! تیری جرابوں کی بدبو آج بھی میری ناک میں موجود ہے۔ جب میں نے اپنی ماں کی عصمت کو بچانے کے لئے تیرے بدبو دار پاؤں کو بوسہ دیا تھا۔ نوشیرواں نے حکم دیا کہ اس کا سر قلم کر دیا جائے اور اس کی لاش کو صلیب پر چڑھا دیا جائے تاکہ لوگ اس سے عبرت حاصل کریں اور نوشیرواں کے حکم سے ایک لاکھ مزدکیوں کو ایک دن میں قتل کر دیا گیا اور اس دن اس کو نوشیرواں کے لقب سے ملقب کیا گیا۔ مزدک کے پیرو کاروں نے لوگوں کی جو جائیدادیں اور اموال اپنے غاصبانہ قبضے میں لئے ہوئے تھے وہ ان سے لے کر ان کے اصلی مالکوں کو واپس کر دیئے گئے اس طرح یہ فتنہ جس نے اہل ایران کے اخلاق کو تہس نہس کر دیا تھا۔ نوشیروان کی جرات و بسالت سے فرد ہوا اور لوگوں کو آرام کا سانس لینا نصیب ہوا ۔
(الکامل ،جلد اول ،خلاصہ صفحہ 434 تا 436)
علامہ ابن خلدون اور دیگر مورخین نے بھی مزدک کی تباہ کاریوں کے بارے میں تفصیل سے لکھا ہے ہم اس کا اعادہ ضروری نہیں سمجھتے۔
اہل ایران کا اولاد کی تربیت کا طریقہ کار: بچہ پانچ سال تک ماں کی حفاظت میں رہتا۔ پھر باپ اسے اپنے آغوش تربیت میں لے لیتا سات سال کی عمر میں اسے مدرسہ میں داخل کیا جاتا۔ اور تعلیم صرف اہل ثروت کے بیٹوں تک محدود تھی اور کاہن عام طور پر معلم کا فریضہ انجام دیتے تھے سارے طالب علم عبادت گاہ یا کاہن کے گھر میں جمع ہوتے ان کے مسلمہ قواعد سے ایک قاعدہ یہ تھا کہ کوئی مدرسہ شہر کے قریب قائم نہ کیا جائے تاکہ بازاری لوگوں کی بری عادتیں ، کذب بیانی، گالی گلوچ ،دھوکا دہی وغیرہ ان معصوم بچوں کے اخلاق کو متاثر نہ کریں۔ نصابِ تعلیم، ژند اور اس کی شروح تھیں ژند وہ کتاب ہے جو ان کے خیال کے مطابق زرتشت پر آسمان سے نازل ہوئی اس کے علاوہ مندرجہ ذیل علوم پڑھائے جاتے:
دین، طب اور قانون پڑھانے کا طریقہ یہ تھا کہ جو پڑھایا جاتا اسے وہ زبانی یاد کرتے۔ اور عام رعایا کو یہ تین چیزیں سکھائی جاتیں:
1) شہ سواری 2) تیرافگنی 3) سچی بات کہنے کا سلیقہ
ابتدائی تعلیم کے بعد اہل ثروت کے بیٹوں کو بیس یا چوبیس سال کی عمر تک مزید تعلیم دی جاتی ۔ بعض کو خاص اعلیٰ عہدوں کے لئے تیار کیا جاتا اور بعض کو مختلف صوبوں میں گورنر کے فرائض انجام دینے کی تربیت دی جاتی اور ان سب کو فنون حرب کی تعلیم دی جاتی ان اعلیٰ مدارس میں طلبہ کی زندگی بڑی شاق اور کٹھن ہوتی بہت سویرے ان کو جگا دیا جاتا پھر لمبی مسافت تک انہیں دوڑایا جاتا۔ سرکش گھوڑوں پر سواری کرنے تیراکی اور شکار اور چوروں کے تعاقب کی انہیں تربیت دی جاتی۔ کاشتکاری باغبانی کا انہیں فن سکھایا جاتا اور چلچلاتی دھوپ اور شدید سردی میں دور تک انہیں پیدل چلنے کی مشق کرائی جاتی تاکہ وہ سخت موسم کی تبدیلیوں کو بآسانی برداشت کر سکیں۔ انہیں خشک اور سادہ غذا کھلائی جاتی اور انہیں اس طرح دریا عبور کرنے کا ڈھنگ سکھایا جاتا کہ ان کی زرہیں اور کپڑے پانی سے تر نہ ہوں ۔
(قصۃ الحضارة ،صفحہ ۴۴۴ – ۴۴۳ ،جلد اول ،جز دوم)
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲