قسط نمبر23 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ:بیسواں)
(ایران ~ حصہ بیسواں)
(ایران میں خاندانی نظام)
خاندان کی بنیاد تعدد ازدواج پر تھی ایک شخص کو متعدد بیویوں سے نکاح کرنے کی اجازت تھی ہر شخص اپنی آمدنی کے مطابق بیویوں کی تعداد مقرر کر سکتا تھا۔غریب آدمی کو ایک بیوی پر قناعت کرنا پڑتی تھی۔ خاوند گھر کا مالک اور خاندان کا سربراہ ہو تا تھا۔ ساری بیویوں کو یکساں درجہ نہیں دیا جاتا تھا۔ بلکہ بعض کو بعض پر خصوصی امتیازات حاصل تھے۔ ایک بڑی بیوی ہوتی تھی جس کو “زنِ پادشاہی ہا” کہتے تھے وہ دوسری بیویوں سے افضل سمجھی جاتی تھی اور اس کے خاص حقوق تھے اس کے علاوہ دوسری بیویوں کا درجہ بہت کم تھا ان کو ” زنِ چگاری ہا ” کہتے تھے یعنی خدمت گار بیوی ان کے قانونی حقوق بڑی بیگم کے حقوق سے مختلف تھے خاوند پر لازم تھا کہ اپنی بیاہتا بیوی کو عمر بھر نان و نفقہ دے۔
(ایران بعہد ساسانیاں، صفحہ ۴۲۷)
خدمت گار بیوی کی صرف اولاد نرینہ کو خاندان میں داخلہ کا حق مل سکتا تھا۔
(ایران بعہد ساسانیان، صفحہ ۴۲۸)
ایران میں زمانہ قدیم سے یہ دستور تھا کہ عورتوں کی حفاظت کے لئے مردوں کو ملازم رکھا جاتا تھا لیکن یونان کی طرح یہاں بھی خواصوں اور داشتہ عورتوں کو رکھنے کا طریقہ عام تھا اسے نہ صرف مذہباً جائز قرار دیا گیا تھا بلکہ یہ ایرانیوں کی سماجی زندگی کا لازمی خاصہ بن گیا تھا۔
(نقوش رسول، صفحہ ۱۲ ،جلد ۳)
اولاد کے بارے میں ان کا یہ دستور تھا کہ لڑکا جب تک بالغ نہ ہو جاتا اور لڑکی بیاہی نہ جاتی ان کی پرورش اور نگہداشت باپ کی ذمہ داری تھی بچہ پیدا ہونے پر خاص مذہبی رسوم ادا کی جاتیں اور صدقے دیئے جاتے لیکن لڑکی کے پیدا ہونے پر یہ دھوم دھام نظر نہ آتی۔بچے کو نظر بد سے بچانا ضروری سمجھا جاتا تھا بالخصوص اس بات کی احتیاط کی جاتی تھی کہ کوئی ناپاک عورت اس کے پاس نہ آئے تاکہ اس کی شیطانی ناپاکی بچے کے لئے بد بختی کا باعث نہ ہو ۔شیطان کو دور رکھنے کے لئے آگ اور روشنی کا استعمال کیا جاتا تھا۔
(ایران بعہد ساسانیاں ،صفحہ ۴۳۲)
لڑکی کی مذہبی تعلیم ماں کا فرض تھا۔ لیکن اس کی شادی کرنا باپ کے فرائض سے تھا اگر باپ زندہ نہ ہو تو پھر لڑکی کی شادی کسی اور شخص کے سپرد کی جاتی تھی لڑکی کو خود اپنے شوہر کے انتخاب کا حق نہ تھا۔ پروفیسر مذکور لڑکے، لڑکی کی شادی کی عمر کے بارے میں لکھتے ہیں: منگنی عموما پچپن میں ہوتی تھی اور شادی نوجوانی میں کر دی جاتی تھی پندرہ سال کی عمر میں لڑکی کا بیاہا جانا ضروری تھا۔
(ایران بعہد ساسانیاں، صفحہ ۴۳۳)
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲