Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹

قسط نمبر21 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ:اٹھارہواں)

(ایران ~ حصہ اٹھارہواں)
(ساسانی خاندان ~ حصہ گیارہواں)
(ساسانی خاندان کی حکومت کا آغاز ~ حصہ ہفتم ~ آخری حصہ)

خسرو پرویز اور ہرقل قیصر روم کے درمیان طویل عرصہ تک جنگوں کا سلسلہ جاری رہا۔ ابتداء میں خسرو پرویز کو پے در پے شاندار فتوحات حاصل ہوئیں یہاں تک کہ رومن ایمپائر کا بہت بڑا حصہ اس کے زیرنگین ہو گیا انطاکیہ ، یروشلم جو عیسائیوں کے مقدس مقامات تھے ان پر بھی اس نے قبضہ کر لیا اور مقدس صلیب بھی عیسائیوں سے چھین لی۔ اس وقت فتح کے نشہ سے سرشار ہو کر خسروپرویز نے جو خط ہرقل کو لکھا اس میں اس کے غرور اور رعونت نیز اپنے مد مقابل کے لئے تہذیب و شائستگی سے گرے ہوئے سوقیانہ کلمات پڑھ کر انسان حیران رہ جاتا ہے۔ اس خط کو ول ڈیورانٹ نے اپنی مشہور کتاب “دی ایج آف فیتھ” صفحہ 147 پر اور جنرل سر پرسی نے اپنی کتاب “ہسٹری آف پرشیا” کے صفحہ 482 پر نقل کیا ہے جس کا انگریزی متن درج کیا جارہا ہے۔

Khusru, greatest of gods and master of the whole earth, to Heraclius his vile and insensate slave. You say that you trust in your god. Why, then, has he not delivered Jerusalem out of my hand? Do not deceive yourself with Vain hope in that Christ, who was not even able to save himself from the Jews, who slew him by nailing him to a cross.

ترجمہ: خسرو جو تمام خداؤں سے سب سے بڑا خدا ہے اور ساری زمین کا مالک ہے کا خط بنام ہرقل جو اس کا کمینہ اور احمق غلام ہے۔ تم کہتے ہو کہ تم اپنے خدا میں یقین رکھتے ہو پھر کیوں اس نے یروشلم کو میرے ہاتھ سے آزاد نہیں کرایا؟ اپنے آپ کو اس بے ہودہ امید سے دھوکا نہ دو کہ مسیح تمہاری امداد کرے گا۔ جو اس قابل بھی نہ تھا کہ اپنے آپ کو یہودیوں سے بچا سکے جنہوں نے اسے صلیب پر لٹکایا، کیلیں ماریں اور پھر اسے قتل کر دیا۔

اپنے مد مقابل کسی بادشاہ کو کمینہ، رذیل اور احمق غلام کہنا ایک احمقانہ رعونت ہے۔جو آمریت کی پیداوار ہے۔جس طرح ابتدا میں آپ کو بتایا گیا ہے کہ انہوں نے اپنی عوام کے ذہنوں میں یہ عقیدہ راسخ کر دیا تھا کہ انہیں یہ بادشاہی اھورا مزدا نے دی ہے اور رعایا پر فرض ہے کہ جس طرح وہ خدا کی بندگی کرتے ہیں وہ اپنے بادشاہوں کے احکام کو اہورا مزدا کے احکام یقین کرتے ہوئے بجا لایا کریں اس سے انہیں یہ فائدہ تو ہوا کہ ایرانی عوام ان مظالم اور بے پناہ محرومیوں کا شکار ہونے کے باوجود ان کے سامنے سر نہیں اٹھا سکتے تھے لیکن ساسانی خاندان کے افراد سے حکمرانوں کو ہر وقت یہ خطرہ لاحق تھا کہ ان میں سے ان کے خلاف کوئی بغاوت نہ کر دے، چنانچہ مرنے والے بادشاہ کا بیٹا جب تخت شاہی پر بیٹھتا تو وہ اپنے خاندان کے تمام اُن افراد کو خصوصاً اپنے سگے بھائیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیتا جن سے اُسے یہ خوف ہوتا کہ وہ کسی وقت بھی بادشاہی کا دعوی کر کے اس کے لئے خطرے کا باعث بنیں گے۔نوشیرواں جو دنیا میں عادل کے لقب سے مشہور ہے جب وہ سریر آرائے مملکت ہوا تو اس نے اپنے سترہ سگے بھائیوں کو قتل کرا دیا۔ ول ڈیورانٹ لکھتا ہے کہ اس نے اپنے تمام بھائیوں اور ان کے تمام لڑکوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا صرف ایک کو زندہ رہنے دیا۔
(دی ایج آف فیتھ، صفحہ 144)

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top