قسط نمبر 18 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ: پندرہواں)
(ایران ~ حصہ پندرہواں)
(ساسانی خاندان ~ حصہ ہشتم)
(ساسانی خاندان کی حکومت کا آغاز ~ حصہ چہارم)
حکمران طبقہ نے مختلف طریقوں سے عوام کے ذہنوں میں جب یہ چیز راسخ کر دی کہ بادشاہ کی بادشاہی منجانب خدا ہے تو اب بادشاہ کی ذات کو جملہ اختیارات کا سرچشمہ تسلیم کرنے میں کوئی رکاوٹ باقی نہ رہی۔ اس کے منہ سے نکلنے والا ہر جملہ قانون یقین کیا جانے لگا۔ جس کے سامنے سر تسلیم خم کرنا رعایا کے ہر فرد پر لازم تھا۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے ول ڈیورانٹ نے “قصۃ الحضارة” میں بڑی تفصیل سے لکھا ہے جس کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔ بادشاہ کو یہ اختیار تھا کہ جس کے بارے میں چاہتا مقدمہ چلائے بغیر، کوئی جرم ثابت کئے بغیر، اس کے لئے موت کی سزا کا حکم سنا دیتا بلکہ بادشاہ کی ماں اور اس کی بڑی ملکہ کو بھی یہ اختیارات حاصل تھے کہ وہ جس کو چاہیں موت کے گھاٹ اتار دیں۔ کسی عام شہری بلکہ کسی امیر و رئیس کو بھی یہ جرات نہ ہوتی تھی کہ بادشاہ یا اس کے خاندان کے اس ظالمانہ فعل پر صدائے احتجاج ہی بلند کر سکے۔ اگر کسی باپ کے سامنے اس کے بے گناہ بچے کو بادشاہ اپنے تیر سے گھائل کر دیتا اور اس نوجوان کی لاش خاک و خون میں تڑپ رہی ہوتی تو باپ اس دلدوز منظر کو دیکھ کر خون کے گھونٹ پی کر رہ جاتا اور وہ اظہار تاسف کے بجائے اس وقت اپنے بادشاہ کی تعریف کرتا کہ ہمارے جہاں پناہ کا نشانہ بہت اچھا ہے۔ بادشاہ کی قوت کا دار و مدار عسکری قوت پر ہوتا ہے ایران کا ہر شہری جس کی عمر پندرہ سال اور پچاس سال کے درمیان ہوتی اس پر لازم تھا کہ وہ فوجی خدمات ادا کرے، ایک دفعہ ایسا اتفاق ہوا کہ ایک باپ کے تین لڑکے تھے۔اس نے بادشاہ کی خدمت میں درخواست کی کہ میں نے اپنے دو بچوں کو فوجی خدمات انجام دینے کے لئے آپ کی خدمت میں پیش کر دیا ہے از راہ رعایا پروری میرے تیسرے لڑکے کو اجازت دیں کہ وہ میرے پاس رہے اور دیگر امور کو سر انجام دینے میں میری امداد کرے۔ بادشاہ نے اس وفادار شہری کی درخواست سن کر حکم دیا کہ اس کے تینوں بیٹوں کو تہ تیغ کر دیا جائے۔ ایک باپ نے اپنے چار لڑکے میدان جنگ میں بھیج دیئے۔ ان میں سے ایک بھائی نے بادشاہ سے درخواست کی کہ اس کے پانچویں بھائی کو اجازت دی جائے کہ وہ بوڑھے والدین کی خدمت کرے اور امور زراعت کی نگرانی کرے بادشاہ نے حکم دیا کہ اس پانچویں بھائی کو دو حصوں میں کاٹ دیا جائے جس راستہ سے لشکر نے گزرنا ہے اس کے ایک طرف اس کا اوپر والا دھڑ اور دوسری طرف اس کا نیچے والا دھڑ رکھ دیا جائے تاکہ لوگوں کو عبرت ہو اس ظالمانہ اور سنگدلانہ کرتوت پر کسی کو جرأت نہ ہوئی کہ وہ اس پر اپنی ناپسندیدگی کا ہی اظہار کر سکیں۔ فوجی بینڈ اپنی دھنیں بجاتا رہا۔ عام لوگ بادشاہ سلامت زندہ باد کے فلک شگاف نعرے لگاتے رہے اور لشکر اس نوجوان کی کٹی ہوئی لاش کے دو ٹکڑوں کے درمیان سے گزرتا گیا مملکت میں بادشاہ کے ارادے اور لشکر کی قوت کے بغیر اور کوئی قانون نہ تھا۔ جس کا تقدس اور احترام بادشاہ اور رعایا سب پر ضروری ہو۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ ان لوگوں کا یہ اعتقاد تھا کہ بادشاہ کے سارے فیصلے اہورا مزدا (خداوند عالم) کی طرف سے اس پر وحی کئے جاتے ہیں، اب خدا کے فیصلے کے خلاف کون علم بغاوت بلند کر سکتا ہے۔
(قصۃ الحضارة خلاصہ، صفحہ 415 تا 416، جلد اول، جز ثانی)
اس طرح انہوں نے اپنی سلطانی کو ہر قسم کے خطرات سے محفوظ کرنے کی کوشش کی نیز یہ تصور بھی اپنی رعایا کے دلوں میں رائج کر دیا کہ بادشاہی ساسانی خاندان کے افراد کے ساتھ مختص ہے اس خاندان کے علاوہ کوئی شخص بھی بادشاہ بننے کا یا حکمرانی حاصل کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ جب کبھی ایسا ہوا کہ ساسانی خاندان کے علاوہ کسی نے عنان حکومت ہاتھ میں لینے کی جسارت کی جیسے بہرام گور نے تو اس کی تمام صلاحیتیوں کے باوجود قوم نے اسے ٹھکرا دیا، اور تب آرام کا سانس لیا، جب اس کو تہ تیغ کر دیا۔ تخت شاہی حاصل کرنے کے لئے جتنی جنگیں ہوئی ہیں، ان میں دونوں طرف ساسانی خاندان کے ہی افراد تھے اس سیاسی نظریہ کے چند فوائد بھی تھے کہ سلطنت کو استحکام میسر آیا۔ اور ہر ایرا غیرا کو جرات نہ ہوتی کہ وہ حکومت کے حصول کے لئے عوام کو برانگیختہ کر کے اپنے ساتھ ملا لے۔اور ملک میں فتنہ و فساد کی آگ بھڑکا دے۔ لیکن اس سے ایسی خرابیاں بھی نمودار ہوئیں جو ایران کی ترقی کی راہ میں سنگ گراں ثابت ہوئیں بادشاہ اپنے آپ کو مطلق العنان سمجھنے لگے ان کی کسی بات پر اعتراض کرنا ایسا جرم تھا جس کی سزا قتل تھی۔ایک حیرت انگیز مثال آپ بھی سنیں۔ جو پروفیسر آرتھر نے طبری سے نقل کی ہے۔ جدید بندوبست اور اصلاح مالیات پر غور کرنے کے لئے خسرو نے ایک کونسل منعقد کی اور دبیر خوراک کو حکم دیا کہ لگان کی نئی شرحیں بآواز بلند پڑھ کر سنائے جب وہ پڑھ چکا تو خسرو نے دو دفعہ حاضرین سے پوچھا کہ کسی کو کوئی اعتراض تو نہیں ہے سب چپ رہے بادشاہ نے تیسری بار یہی سوال کیا تو ایک شخص کھڑا ہوا اور تعظیم کے ساتھ پوچھنے لگا کہ آیا بادشاہ کا یہ منشا ہے کہ نا پائیدار چیزوں پر ٹیکس لگائے تیرا یہ حکم کچھ مدت گزرنے کے بعد ظلم و بے انصافی کی شکل اختیار کر لے گا۔ اس پر بادشاہ للکار کر بولا کہ اے مرد ملعون و گستاخ! تو کن لوگوں میں سے ہے اس نے جواب دیا کہ میں دبیروں میں سے ہوں، بادشاہ نے حکم دیا کہ اس کو قلمدانوں سے پیٹ پیٹ کر مار ڈالو، اس پر ہر ایک دبیر نے اپنے اپنے قلمدان سے اس کو مارنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ وہ بیچارا مر گیا جس کے بعد سب نے کہا اے بادشاہ! جتنے ٹیکس تو نے ہم پر لگائے ہیں وہ ہمارے نزدیک سب انصاف پر مبنی ہیں۔
(ایران بعہد ساسانیاں، صفحہ 511، بحوالہ طبری، صفحہ 122، جلد اول جزثانی)
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲