قسط نمبر 17 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ:چودہواں)
ایران ~ حصہ چودہواں)
(ساسانی خاندان ~حصہ ہفتم)
(ساسانی خاندان کی حکومت کا آغاز ~حصہ سوئم)
ساسانی بادشاہ اس بات کی کوشش کرتے تھے کہ ان کی رعایا انہیں خداؤں کی نسل سے سمجھے آرتھر لکھتے ہیں۔اپنے کتبوں میں شاہان ساسانی ہمیشہ اپنے آپ کو پرستندگان مزدا کہتے ہیں لیکن ساتھ ہی وہ اپنے نام کے ساتھ خدا کے القاب بھی لگاتے ہیں اور اپنے آپ کو شخص ربانی (بغ ) اور خداؤں (یزدان ) کی نسل سے بتلاتےہیں۔
(ایران بعہد ساسانیاں ،صفحہ ۳۳۷)
شاپور دوم نے اپنے خط میں جو اس نے قیصر کانٹنس کے نام لکھا تھا۔اپنے نام کے ساتھ شہنشاہ قرین سیارگان، برادر مهر و ماه کے شاندار القاب لگائے ہیں۔ خسرو اول نوشیرواں نے قیصر جسٹینین کے نام خط لکھنے میں اپنے نام کی تعظیم مفصلہ ذیل القاب کے ساتھ کی ہے۔ وجود ربانی، نیکو کار، ملک کو امن دینے والا، واجب الاحترام، خسرو شہنشاه ارجمند، پارسا، فیض رساں، جس کو خداؤں نے بہت بڑی سعادت اور سلطنت سے بہرہ مند کیا ہے ۔زبردستوں کا زبردست، خداؤں کا ہم شکل۔ خسرو دوم (پرویز) نے اپنے القاب کو یہاں تک بلند کیا کہ صفات ذیل کے ساتھ اپنے آپ کو متصف کر دیا۔خداؤں میں انسان غیر فانی اور انسانوں میں خدائے لاثانی اس کے نام کا بول بالا آفتاب کے ساتھ طلوع کرنے والا ہے شب کی آنکھوں کا اجالا۔
(ایران بعہد ساسانیاں ،صفحہ ۳۳۸)
خاندان ساسان کے کئی بادشاہوں نے بڑی بڑی چٹانوں پر اپنی ایسی برجستہ تصویریں بنائی ہیں جن سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اہورا مزدا (خدا) اسے منصب شاہی عطا کر رہا ہے، شہر شاپور کی چٹان پر ایک برجستہ تصویر کندہ ہے جس میں شاہ بہرام اول کو اہورا مزدا کی طرف سے منصب شاہی کے عطا کئے جانے کی منظر کشی کی گئی ہے بادشاہ نے ایک تاج پہن رکھا ہے جس پر نوکدار دندانے بنے ہوئے ہیں اور اس کے اوپر کپڑے کی گیند رکھی ہوئی ہے اہور امزدا کا وہی دیوار دار تاج ہے وہ اور بادشاہ دونوں گھوڑوں پر سوار ہیں اور بادشاہ حلقہ سلطنت کو جو اہورا مزدا نے اس کی طرف بڑھا رکھا ہے ہاتھ سے پکڑ رہا ہے۔ اردشیر نے بھی دو برجستہ ایسی تصاویر یادگار چھوڑی ہیں جن میں یہ دکھایا گیا ہے کہ اہورا مزدا (خدا) اردشیر کو حلقہ سلطنت دے رہا ہے پہلی تصویر نقش رجب میں ہے اور دوسری نقش رستم میں نقش رجب کی تصویر میں اہورا مزدا کو اس طرح دکھایا گیا ہے کہ وہ اپنے داہنے ہاتھ میں حلقہ سلطنت کو لئے ہوئے ہے اور بائیں ہاتھ میں عصائے شاہی کو تھامے ہوئے ہے۔ اور عہدہ شاہی کی ان دو علامتوں کو ہاتھ پھیلا کر بادشاہ اردشیر کے حوالے کر رہا ہے، بادشاہ اپنے داہنے ہاتھ سے حلقے کو لے رہا ہے اور بایاں ہاتھ جس کی انگشت آگے کو اٹھی ہوئی ہے، فرمانبرداری کے اظہار کے لئے مودبانہ اوپر کو اٹھائے ہوئے ہے۔ نقش رستم کی برجستہ تصاویر زیادہ بہتر حالت میں محفوظ ہیں۔ جن میں اہورا مزدا اور بادشاہ کو گھوڑوں پر سوار دکھایا گیا ہے۔اہورا مزدا بائیں ہاتھ میں عصائے شاہی تھامے ہوئے ہے اور دائیں ہاتھ سے حلقہ سلطنت کو جو شکن دار فیتوں سے مزین ہے آگے بڑھا کر بادشاہ کو دے رہا ہے۔ بادشاہ اپنے دائیں ہاتھ سے اس کو لے رہا ہے۔ اور بایاں ہاتھ جس کی انگشت شہادت ایستادہ ہے اظہار احترام کے لئے اٹھا رکھا ہے۔ طاق بوستان جسے ایشیا کے دروازہ کا نام دیا گیا ہے اس جگہ جہاں چٹان کی دیوار میں سے بڑے بڑے چشمے ابلتے ہیں ایک تصویر چٹان میں سے تراش کر بنائی گئی ہے۔ جس میں شاپور دوم کے عہدہ شاہی قبول کرنے کا منظر دکھایا گیا ہے۔ بادشاہ کے دائیں طرف اہورا مزدا ہے جو اپنا چہرہ بادشاہ کی طرف موڑے ہوئے سر پر دیوار دار تاج پہنے ہوئے حلقہ سلطنت کو جس میں فیتے آویزاں ہیں بادشاہ کی طرف بڑھا کر اسے دے رہا ہے۔ اس طرح کی متعدد تصاویر ملک کے مختلف علاقوں میں کندہ ہیں۔ اور ان کے پیش نظر دیگر مقاصد کے علاوہ اہل ایران کے ذہنوں میں یہ نقش ثبت کرتا ہے کہ ان کے بادشاہ خدا کی طرف سے مقرر کردہ ہیں ان کو تاج شاہی اور اورنگ سلطانی کسی انسان نے یا کسی فوج نے یا رعایا کے افراد نے نہیں بخشا تاکہ ان سے وہ چھین بھی سکیں، بلکہ حکمرانی و سلطانی کے یہ اختیارات انہیں اہورا مزدا نے ارزانی فرمائے ہیں اور دنیا کی کوئی طاقت ان سے چھین نہیں سکتی۔ بادشاہ کی غیر مشروط فرمانبرداری اور اطاعت در حقیقت اہورا مزدا کی اطاعت و فرمانبرداری ہے، جس نے انہیں تخت شاہی پر متمکن کیا ہے اس طرح ساسانی بادشاہوں نے رعایا کی طرف سے علم بغاوت بلند کرنے کے جملہ امکانات کو ختم کر دیا، کیونکہ بادشاہ کے خلاف تو کوئی منچلے اپنے سر ہتھیلیوں پر رکھ کر بغاوت کا پرچم بلند کر سکتے ہیں لیکن خدا کے خلاف بغاوت کرنے کا تو کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا، بادشاہ کے جور و ستم کو جب تقدیر الہی کا نام دے دیا جائے تو پھر ان کے خلاف نہ جذبہ انتقام ہوتا ہے اور نہ ان کے خلاف اٹھ کھڑا ہونے کی کسی بندے میں جرأت پیدا ہو سکتی ہے۔
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲