قسط نمبر 15 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ:بارہواں)
(ایران ~ حصہ بارہواں)
(ساسانی خاندان ~ حصہ پنجم)
(ساسانی خاندان کی حکومت کا آغاز ~ حصہ اول)
ساسانی خاندان کے برسراقتدار آنے کو ایسی روایات سے وابستہ کر دیا گیا ہے جن سے ایرانی باشندوں کے ذہن میں یہ چیز راسخ ہو گئی ہے کہ ساسانیوں کو حکومت اللہ تعالی کی طرف سے دی گئی ہے اس میں کسی انسانی طاقت کا کوئی دخل نہیں تقریباً ساسان کے ہر بادشاہ نے اپنی رعایا کے لوح قلب پر اس امر کو ثبت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اس کے سر پر جو تاج شاہی ہے براہ راست خداوند عالم نے اسے یہ پہنایا ہے۔گویا ایسے بادشاہ کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے کا خیال بھی اس خدا سے براہ راست بر سر پیکار ہونے کے مترادف ہے جس نے اس بادشاہ کو اورنگ شاہی اور تاج سلطانی ارزانی فرمایا ہے ۔لوگوں کو جو قلبی عقیدت اللہ تعالی کے ساتھ تھی ان روایات و حکایات کی بناء پر وہی عقیدت ان کو اپنے بادشاہ کے ساتھ بھی ہوتی تھی ہم قارئین کے سامنے وہ حکایت بیان کرتے ہیں جو مؤرخین نے ساسانی خاندان کے برسراقتدار آنے کے بارے میں بیان کی ہے۔
پاپک نامی ایک شخص فارس کی ریاست کا حکمران تھا اور اصطخر میں قیام پذیر تھا اس کا کوئی لڑکا نہ تھا۔ایک رات اس نے خواب میں دیکھا کہ ساسان جو اس کا چرواہا تھا اس کے سر سے آفتاب طلوع ہو رہا ہے اور اپنی روشنی سے ساری دنیا کو منور کر رہا ہے دوسری رات اس نے پھر خواب دیکھا کہ ساسان سفید ہاتھی پر سوار ہے اور لوگ اس کی خدمت میں نذرانہ عقیدت پیش کر رہے ہیں تیسری رات پھر اس نے خواب دیکھا کہ پاکیزہ آگ ساسان کے گھر میں جل رہی ہے اور رفتہ رفتہ تیز تر ہو رہی ہے یہاں تک کہ اس کی روشنی سے سارا جہاں چمک اٹھا ہے ان خوابوں سے پاپک حیرت زدہ ہو گیا اور اپنے دانشور درباریوں کو طلب کر کے انہیں اپنے خواب سنائے ۔سب نے اتفاق رائے سے ان خوابوں کی یہ تعبیر بتائی کہ ساسان یا اس کا بیٹا بادشاہی حاصل کر لیں گے۔یہ سننے کے بعد پاپک نے ساسان کو بلایا۔ساسان نے اس کو اپنی خاندانی عظمت کے بارے میں آگاہ کیا چنانچہ بادشاہ نے اس کو خلعت شاہی پہنائی اور اپنی لڑکی کے ساتھ اس کی شادی کر دی جس کے بطن سے اردشیر پیدا ہوا۔اس سلسلہ میں ایک دلچسپ کہانی یہ بیان کی جاتی ہے کہ اردوان جو ایران کی دو سو چالیس ریاستوں کا حکمران اعلیٰ تھا اور جس کا دارالسلطنت “رے” کے مقام پر تھا۔اردشیر جب جوان ہو گیا تو وہ اردوان کے دربار کو چھوڑ کر پارس کی طرف بھاگ گیا اور اپنے ساتھ اردوان کی دانا اور خوبصورت دوشیزہ کو بھی لے گیا جو اردوان کی مشیر خاص تھی لیکن اس نے اردشیر کے عشق میں مبتلا ہونے کے باعث اپنے ولی نعمت اور ایران کے حکمران اعلیٰ اردوان کو چھوڑ کر اردشیر کی معیت میں بھاگ جانے کا فیصلہ کیا بادشاہ کو معلوم ہوا تو وہ غصہ سے بے قابو ہو کر ان بھگوڑوں کے تعاقب میں نکلا اور ایک گاؤں میں پہنچ کر لوگوں سے دریافت کیا کہ کیا انہوں نے اس قسم کا کوئی جوڑا دیکھا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ اس جوڑے کو ہوا کی تیزی کے ساتھ گھوڑا دوڑاتے ہوئے دیکھا ہے۔اور ایک بڑا دنبہ ان کے پیچھے پیچھے دوڑتا جارہا تھا۔دوسرے روز اردوان کا گزر ایک کاروان کے پاس سے ہوا جنہوں نے بتایا کہ مینڈھا ایک گھڑ سوار کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا اس کو یقین ہو گیا کہ یہ شاہی شان و شوکت کی علامت ہے چنانچہ اس نے ان کی تلاش ترک کردی۔(ہسٹری آف پرشیا، صفحہ ۳۹۳)
یہ اگرچہ افسانے ہیں لیکن ان سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ساسانیوں نے اپنی بادشاہی کو کس طرح خدائی اختیارات سے منسوب کیا ان کی وفادار رعایا صدہا سال تک ان افسانوں کو حقیقت یقین کرتی رہی اور ان کا یہ اعتقاد تھا کہ کوئی غاصب جس کی رگوں میں مقدس شاہی خون نہ دوڑ رہا ہو۔ وہ ساسانی بادشاہوں کے مقابلہ میں اگر علم بغاوت بلند کرے گا تو کبھی کامیاب نہ ہو گا۔ ارد شیر اگرچہ اپنے باپ کی ایک ذیلی ریاست کا وارث تھا، جو اردوان کے ماتحت تھی، لیکن اس نے ہمت کر کے کرمان پر قبضہ کر لیا اور وہ قلعہ آج بھی قلعہ اردشیر کے نام سے مشہور ہے۔ اردوان اس کی اس جسارت پر برا فروختہ ہوا اور فارس پر حملہ کر دیا پہلے دن کی لڑائی میں اگرچہ فریقین کو سخت جانی نقصان اٹھانا پڑا لیکن جنگ کا فیصلہ نہ ہوسکا۔ دوسرے روز اردشیر نے فتح حاصل کر لی۔ اور پارتھیا کے شہنشاہ کو ناقابل تلافی نقصانات سے دوچار کر دیا آخری جنگ ہرمز کے میدان میں لڑی گئی جو اہواز کے مشرق میں ہے اس جنگ میں پارتھیا کی فوج کو مکمل شکست ہوئی اور اردوان مارا گیا۔ ایک روایت یہ ہے کہ اردشیر نے اردوان کو دعوت مبارزت دی، جو اس نے قبول کر لی۔ اردوان نے جب حملہ کیا تو اردشیر نے بظاہر راہ فرار اختیار کی لیکن پھر اچانک واپس مڑکر ایک تیر مارا جو اردوان کے دل کو چیرتا ہوا پار نکل گیا، اس طرح دو سو چھبیس عیسوی یا دو سو ستائیس عیسوی میں پارتھیا کی شہنشاہیت نے دم توڑ دیا اور اردشیر نے ساسانی شہنشاہیت کا آغاز کیا۔ پھر آہستہ آہستہ اس نے تمام ایران پر قبضہ کر لیا۔ “تاریخ فرشتہ” میں ہے کہ ایران فتح کرنے کے بعد اس نے ہندوستان پر حملہ کر دیا اور سرہند کے مضافات تک بڑھتا چلا گیا۔راجہ جونا جو اس علاقہ کا حکمران تھا اس نے موتی جواہرات سونا اور ہاتھی بطور نذرانہ پیش کئے اور اردشیر کو واپس لوٹانے میں کامیاب ہو گیا۔
(ہسٹری آف پرشیا ،صفحہ 393 – 394)
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲