Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹

قسط نمبر 14 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ:گیارہواں)

(ایران ~ حصہ گیارہواں)
(ساسانی خاندان ~ حصہ چہارم)

ایران کے سیاسی حالات: ساسانی خاندان کے عہد حکومت میں ایران کے سیاسی حالات بیان کرنے سے پہلے پارتھیا کے عہد اقتدار میں ایران کے سیاسی حالات کا تذکرہ قارئین کے لئے فائدہ سے خالی نہ ہو گا۔پارتھیا کے عہد حکومت میں ایران کے سات خاندانوں کو سیاسی اور معاشی لحاظ سے دیگر ایرانی قبائل پر برتری حاصل تھی ان سات خاندانوں میں دو تو شاہی خاندان تھے ان کے علاوہ پانچ خاندانوں میں سے دو خاندان امتیازی شان کے مالک تھے ایک تو ” سورین” کا خاندان تھا۔اس خاندان کو بادشاہ کو تاج پہنانے کا موروثی حق حاصل تھا اور دوسرا “قارین” کا خاندان تھا۔ان گھرانوں میں جو لوگ گاؤں کے سربراہ تھے وہی حکومت کے مرکز ثقل تھے اور انہیں میں وہ بڑے بڑے باج گزار حاکم تھے جو شاہی فوج کے لئے اپنی رعایا سے سپاہی بھرتی کرتے تھے رعایا یا کسان جن کے ذمہ فوجی خدمت ہوتی تھی وہ ان طاقتور سرداروں کے قبضہ میں ایک طرح کی غلامی کی زندگی بسر کرتے تھے۔عہدہ شاہی اشکانی خاندان کے ساتھ مخصوص تھا لیکن یہ ضروری نہ تھا کہ باپ کے بعد بیٹا ہی جانشین ہو اس خاندان کے اکابر اس بات کا فیصلہ کرتے تھے کہ کس کو بادشاہ ہونا چاہئے۔ صوبوں کی گورنری شاہی خاندان اور باقی چھ ممتاز خاندانوں کے ممبروں کے لئے مخصوص تھی۔مجلس شوری بھی شاہی گھرانے کے شہزادوں اور بقیہ چھ ممتاز خاندانوں کے رؤساء پر مشتمل ہوتی۔پارتھی عہد کے ایک امیر کبیر کا کامل نمونہ سورین ہے۔مشہور یونانی تذکرہ نگار پلوٹارک اس کی تصویر بایں الفاظ پیش کرتا ہے۔تمول، نجابت، شان و شوکت میں بادشاہ کے بعد اس کا اولین درجہ تھا۔شجاعت و لیاقت کے اعتبار سے وہ پارتھیوں میں بر ترین تھا۔قدو قامت اور جسمانی خوبصورتی میں اس کا کوئی ثانی نہ تھا۔جب وہ کسی مہم پر جاتا تھا تو اس کے ہمراہ ایک ہزار اونٹ ہوتے تھے جن پر اس کا سامان لادا جاتا تھا۔دو سو رتھوں میں اس کی خواصیں سوار ہوتی تھیں ہزار زرہ پوش سوار اور اس سے کہیں زیادہ سپاہی ہلکے ہتھیاروں کے ساتھ باڈی گارڈ کے طور پر اس کے ہم رکاب ہوتے تھے ان دس ہزار سواروں میں سے کچھ تو اس کی رعایا تھے کچھ اس کے غلام ۔لڑائی کے دن وہ اپنی فوج کو ساتھ لئے زنانہ بناؤ سنگھار کے ساتھ میدان میں نکلتا تھا۔چہرہ پر غازہ ، بالوں میں مانگ نکالتا تھا۔وہ اپنے حرم کو اپنے ساتھ رکھتا تھا اور میدان جنگ میں بھی عیش و عشرت کی راتیں بسر کرتا تھا یعنی مے نوشی، راگ رنگ عشق و محبت کے شغلوں سے اپنا جی بہلاتا تھا۔
(ایران بعہد ساسانیاں ،صفحہ ۲۲)

اس سے اس عہد کے دوسرے رؤساء کی ظاہری دولت و حشمت اور رنگین زندگی کے بارے میں آپ بآسانی اندازہ لگا سکتے ہیں جب امراء کی یہ حالت تھی تو بادشاہ کی پرتکلف اور پر تعیش زندگی کا کیا عالم ہو گا؟ ان کے ہاں بادشاہ کے اختیارات کسی قانون کے ماتحت نہ تھے وہ کامل خود مختاری کے ساتھ حکومت کرتا تھا۔بادشاہ سب سے زیادہ اپنے خاندان کے افراد سے خائف رہتا تھا کیونکہ کوئی امیر جب تک اسے اشکانی خاندان کے کسی شہزادے کی سرپرستی حاصل نہ ہو وہ بادشاہ کے خلاف علم بغاوت بلند نہیں کر سکتا تھا اسی وجہ سے اشکانی خاندان کے بادشاہ بسا اوقات اپنے خاندان کے لوگوں کا بے رحمی کے ساتھ قتل عام کرتے تھے بادشاہ بالعموم لوگوں کے لئے ناقابل رسائی ہوتا تھا۔جاہ و جلال کے امتیازی حقوق جو اس کے لئے مخصوص تھے ان میں ایک یہ تھا کہ وہ اونچا تاج پہنتا۔اور زرین پلنگ پر سوتا تھا۔سلطنت کا خزانہ اور بادشاہ کا ذاتی خزانہ ایک ہی چیز تھی۔پارتھیوں کے عہد حکومت میں بلکہ ان سے پہلے بھی ایران تقریباً دو سو چالیس چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بٹا ہوا تھا ساسانی خاندان کے عہد اقتدار میں ایران کو طوائف الملوکی کی لعنت سے نجات ملی وہ ایک آزاد متحد اور طاقتور ملک کی حیثیت سے صفحہ تاریخ پر ابھرا۔

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top