Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹

قسط نمبر 13 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ:دہم)

(ایران ~ حصہ دہم)
(ساسانی خاندان ~ حصہ سوئم)

مذہبی تعصب کی تباہ کاریاں: ایران میں ماگیوں کے غیر محدود اختیارات نے مذہبی تشدد کا روپ اختیار کر لیا اور بڑی تباہیوں اور بربادیوں کا باعث بنے “مانی” نے جب اپنے پیغامبر ہونے کا دعویٰ کیا تو ماگیوں نے اسے تختہ دار پر لٹکا دیا۔یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ ساسانی بادشاہوں نے ابتداء میں مذہبی رواداری کا ثبوت دیا یہودیوں پر یورپ میں عیسائی جب مظالم ڈھاتے تو وہ ابتداء میں یونانی مملکت میں آکر پناہ لیتے۔لیکن جب قسطنطین کے عہد میں رومن مملکت نے عیسائی مذہب اختیار کر لیا تو رومیوں اور ایرانیوں میں عرصہ دراز سے عداوت کے جو شعلے بھڑک رہے تھے انہوں نے عیسائیوں اور ایران کے زرتشتیوں کے درمیان مذہبی عداوت کا رنگ اختیار کر لیا۔ شاپور دوم کے زمانہ میں جب بازنطینی حکومت سے جنگ شروع ہوئی اور ایران میں بسنے والے عیسائیوں نے بازنطینی افواج کی امداد کی اور ان کے لئے اپنے خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا تو شاپور نے 341ء میں ایرانی مملکت میں بسنے والے تمام عیسائیوں کے قتل عام کا حکم دے دیا عیسائیوں کے تمام دیہات برباد کر دیئے گئے اور ان میں بسنے والوں کو تہ تیغ کر دیا گیا۔بعد میں شاپور نے عام عیسائیوں کو تو معاف کر دیا مگر پادریوں، راہب مردوں . راہب عورتوں کو ذبح کرنے کا حکم دیا سولہ ہزار عیسائی موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے یزد جرد اول (399 تا 420ء ) نے عیسائیوں کو مذہبی آزادی دی اور از سرنو گرجے تعمیر کرنے میں انہیں مالی اعانت بہم پہنچائی۔ 422ء میں ایران کے پادریوں نے ایک کونسل منعقد کی جس میں ایران کے عیسائی کلیسا کو یونانی اور رومی عیسائی کلیساؤں سے علیحدہ قرار دے دیا۔یوں ہر روز کی مصیبت سے انہوں نے نجات حاصل کی۔خسرو پرویز نے اپنی پے در پے فتوحات کے باعث مغرور ہو کر عیسائیت کے خلاف پھر مقدس جنگ کا اعلان کیا۔ چھبیس ہزار یہودی اس کی فوج میں شامل ہو گئے 614ء میں ایران اور یہودیوں کے متحدہ لشکر نے یروشلم پر حملہ کر دیا اور نوے ہزار عیسائیوں کو تہ تیغ کر دیا سارے شہر کو بڑی بے دردی سے لوٹا یروشلم کے بہت سے کلیسا جن میں کلیۃ القیامۃ بھی شامل تھا۔ ان کو جلا کر راکھ کا ڈھیر بنا دیا گیا اور وہ اصل صلیب جو عیسائی دنیا کی مقدس ترین چیز ہے ایرانی اسے بھی اٹھا کر اپنے ساتھ لے گئے۔
(ایج آف فیتھ، صفحہ 147)

خسرو پرویز نے اس کے بعد اسکندریہ مصر پر حملہ کر کے اپنی فتح کا پرچم لہرا دیا، 617ء میں اس نے کالسیڈن کے شہر پر بھی قبضہ کر لیا جو دس سال تک برقرار رہا یہ شہر قسطنطنیہ کے بالکل سامنے تھا۔ اور ان دو شہروں کے در میان صرف آبنائے فاسفورس کی تنگ پٹی تھی جو انہیں ایک دوسرے سے جدا کرتی تھی پرویز نے عیسائی دنیا کے تمام گرجوں کو بھی کھنڈرات میں تبدیل کر دیا ان میں فنون لطیفہ کے جتنے نادر نمونے تھے اور ان گرجوں کے خزانوں میں جو بے پناہ دولت جمع تھی اسے بھی لوٹ کر ایران لے گیا۔
(الکامل ابن اثیر، صفحہ 473 ،جلد اول ،مطبوعہ بیروت)

جنرل سر پرسی “ہسٹری آف پرشیا” میں شاپور کے عہد میں عیسائیوں پر جو مظالم ڈھائے گئے ان کی وجوہات ذرا تفصیل سے بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے۔ جب بازنطینی حکمرانوں نے عیسائیت قبول کی اور عیسائیت کو اپنی مملکت کا مذہب قرار دیا تو ایران میں بسنے والے عیسائیوں کی ہمدردیاں فطرتاََ ان کے ساتھ ہو گئیں۔ ان کے اور ایرانیوں کے درمیان سیاسی کشمکش کا آغاز ہو گیا ایرانی حکمرانوں نے عیسائیوں کے خلاف جو فرد جرم تیار کی اس کے اہم نکات یہ تھے۔

1) عیسائی ہماری مقدس تعلیمات کو تباہ کرتے ہیں وہ لوگوں کو تلقین کرتے ہیں کہ صرف ایک خدا کے بندے بنیں سورج اور آگ کی تعظیم نہ کریں نیز عیسائی لوگوں کو پانی کے ساتھ وضو کرنے کی تلقین کرتے ہیں اس طرح وہ پانی کو پلید کرتے ہیں نیز وہ تبلیغ کرتے ہیں کہ لوگ شادی سے پرہیز کریں اور بچوں کی پیدائش سے اجتناب کریں نیز لوگوں کو اس بات پر اکساتے ہیں کہ ایران کے شہنشاہ کے ساتھ جنگ میں شرکت سے انکار کر دیں وہ مردوں کو زمین میں دفن کرتے ہیں سانپوں، رینگنے والے کیڑوں مکوڑوں کی آفرنیش کو اچھے خدا کی طرف منسوب کرتے ہیں۔

2) وہ بادشاہ کے ملازم کی تحقیر کرتے ہیں انہیں جادو سکھاتے ہیں عیسائیوں کے خلاف سب سے پہلے جو شاہی فرمان جاری ہوا وہ یہ تھا کہ وہ دوسری رعایا سے دو گنا ٹیکس ادا کریں تاکہ جنگ کے اخراجات پورے کئے جائیں جس میں وہ حصہ نہیں لیتے مارشیمون (MAR SHIMUN) ایک کیتھولک پادری کو حکم دیا گیا کہ وہ ٹیکس کی اس رقم کو لوگوں سے وصول کر کے جمع کرے۔اس نے حماقت کی اور یہ حکم بجالانے سے انکار کر دیا اور اس کی دو وجوہات بیان کیں۔پہلی یہ کہ لوگ بہت غریب ہیں اتنا ٹیکس ادا نہیں کر سکتے۔دوسری یہ کہ بشپ کا کام ٹیکس جمع کرنا نہیں اس کو اس کے بہت سے ساتھیوں سمیت گرفتار کر لیا گیا اور ۳۳۹ء میں گڈ فرائیڈے کے روز مار شیمون (MAR SHIMUN) پانچ بشپوں اور ایک سو پادریوں کو سوسا (SUSA) کے مقام پر پھانسی دے دی گئی۔ عیسائیوں پر مظالم کی یہ ابتداء تھی۔جو اس کے بعد چالیس سال تک جاری رہے عیسائیوں کو بے دریغ قتل کیا جاتا رہا۔ان کے کلیساؤں کو تباہ و برباد کیا جاتا رہا۔راہب مردوں اور راہبہ عورتوں کو خصوصیت کے ساتھ اذیت ناک سزائیں دی جاتیں۔کیونکہ یہی لوگ نمایاں طور پر ان جرائم کا ارتکاب کرتے تھے جن کا تذکرہ ایرانیوں کی تیار کردہ فرد جرم میں گزر چکا ہے۔قیصر جولیان (JULIAN) کے سالار جووئین (JOVIAN) نے جب نصیبین اور پانچ دوسرے صوبوں کو ایرانی قبضہ سے چھین کر رومی مملکت کے حوالہ کر دیا تو عیسائیوں کی تعذیب اور اذیت رسانی کے شعلے پھر بھڑک اٹھے اور جب تک شاپور کا طویل عہد حکومت ختم نہیں ہوا بد قسمت عیسائیوں کو امن کا سانس لینا نصیب نہیں ہوا۔
(ہسٹری آف پرشیا، خلاصہ ،صفحہ ۴۱۵ – ۴۱۴)

عیسائی آبادی جو شاپور کے طویل عہد میں طرح طرح کے ظلم و ستم کا ہدف بنی رہی اس کے مرنے کے بعد اسے کچھ سکون نصیب ہوا شاپور سوم نے ایک کیتھولک پادری کو ایک عہدہ کے لئے منتخب کیا لیکن صحیح تبدیلی اس وقت رونما ہوئی جب یزد جرد اول حکمران بنا۔اس نے ۲۰۹ء میں ایک فرمان شاہی جاری کیا جس میں عیسائیوں کو آزادی سے عبادت کرنے اور اپنےگرجوں کو از سر نو تعمیر کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔یزدجرد کی اس نوازش کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ عراق کا ایک بشپ مسمّٰی “ماروتھا” (MARUTHA) ایک سفارت لے کر بادشاہ کے پاس حاضر ہوا بادشاہ بیمار تھا۔ اس نے دم کیا وہ شفایاب ہو گیا۔ اس لئے اس نے عیسائیوں کے بارے میں یہ رحم دلانہ رویہ اختیار کیا۔ سر پرسی لکھتے ہیں کہ وہ اس حد تک اس بشپ سے متاثر ہوا کہ وہ بپتسمہ لے کر عیسائی مذہب قبول کرنے پر آمادہ ہو گیا اس کی وجہ سے ماگیوں نے اس کو بدکار کے لقب سے ملقب کر دیا اور تاریخ میں وہ اس لقب سے پہچانا جاتا ہے۔ کچھ عرصہ کے بعد اسے خیال آیا کہ وہ عیسائیوں کی حمایت میں حد سے زیادہ تجاوز کر رہا ہے چنانچہ اس نے ماگیوں کو اس بات کی اجازت دے دی کہ وہ عیسائیوں کا قلع قمع کر دیں چنانچہ آئندہ پانچ سال عیسائیوں پر حد درجہ ظلم وستم روا رکھا گیا۔

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top