قسط نمبر12 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ:نہم)
(ایران ~ حصہ نہم)
(ساسانی خاندان ~ حصہ دوئم)
ایران میں ایک مخصوص قبیلہ “ماگی” کو مذہبی اجارہ داری حاصل تھی۔اگرچہ ان کے مذہبی افکار میں تغیرات رونما ہوتے رہے لیکن تمام ادوار میں مذہبی پیشوائی کا حق صرف اسی خاندان میں مرکوز رہا پروفیسر آرتھر لکھتے ہیں۔ مجوس یا مغاں اصل میں میڈیا کے ایک قبیلہ یا اس قبیلہ کی ایک خاص جماعت کا نام تھا جو غیر زرتشتی مزدائیت کے علماء مذہب تھے جب مذہب زرتشت نے ایران کے مغربی علاقوں میڈیا اور فارس کو تسخیر کیا تو مغاں اصلاح شدہ مذہب کے رؤساء روحانی بن گئے۔اوستا میں یہ علماء مذہب آذروان کے قدیم نام سے مذکور ہیں لیکن اشکانیوں اور ساسانیوں کے زمانے میں وہ عمومََا “مُغ” کہلاتے تھے ان لوگوں کو ہمیشہ قبیلہ واحد کے افراد ہونے کا احساس رہا۔عام لوگ بھی ان کو ایک ایسی جماعت تصور کرتے تھے جو قبیلہ واحد سے تعلق رکھتی ہے ۔اور خداؤں کی خدمت کے لئے وقف ہے ۔ (ایران بعہد ساسانیاں، صفحہ 149)
کیونکہ مذہبی قیادت ایک خاص قبیلہ کے افراد سے مخصوص ہو کر رہ گئی تھی اور ملک میں عام جاگیردارانہ نظام تھا۔بادشاہ کی طرف سے خدمات کے صلہ میں امراء کو بڑی بڑی جاگیریں بخشی جاتی تھیں اس لئے یہ دونوں گروہ ملک میں با اثر اور مقتدر شمار کئے جاتے تھے۔ مُغ خاندان کے پاس صرف مذہبی قیادت ہی نہ تھی بلکہ یہ بڑی بڑی جاگیروں کے مالک بھی تھے۔اس لئے بڑے متمول اور دولت مند تھے۔ اگر ان دو گروہوں میں سے کسی کو بادشاہ کی طرف سے خطرہ محسوس ہوتا تو دونوں متحد ہو جاتے اور ایک دوسرے کے حقوق کے تحفظ میں ایک دوسرے کی مدد کرتے موبدوں کا انتخاب ہمیشہ قبیلہ مغاں میں سے ہوتا اور انہیں میں سے موبدان موبد چنا جاتا۔جو ان تمام مذہبی راہنماؤں کا سربراہ اعلیٰ ہوتا۔زرتشتی دنیا میں اس کی حیثیت ایسی ہوتی جیسے عیسائی کلیسا میں پوپ کی۔مذہبی عظمت اور مالی اقتدار کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنا نسب نامہ ایک ایسی افسانوی شخصیت کے ساتھ ملا دیا تھا جس کی ایرانیوں کے دل میں بڑی عزت و توقیر تھی۔اس کا نام منوش چتر تھا۔جسے عام طور”منوچہر” کہا جاتا ہے۔انہوں نے اپنے مذہبی مقام سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے دنیاوی اقتدار کو بھی مذہبی تقدس کا رنگ دے دیا تھا۔ اور ہر شخص کی زندگی میں پیش آنے والے تمام مرحلے مہد سے لحد تک ان کی نگرانی میں طے کئے جاتے تھے۔اس زمانہ کا ایک مشہور مورخ اگاتھیاس لکھتا ہے ” ہمارے زمانہ میں ہر شخص ان کا احترام کرتا ہے اور بے حد تعظیم کے ساتھ پیش آتا ہے پبلک کے معاملات، ان کے مشوروں اور پیش گوئیوں سے طے ہوتے ہیں اور لوگوں کے باہمی تنازعات کا وہ غور و فکر کے ساتھ فیصلہ کرتے ہیں اہل فارس کے نزدیک کوئی چیز مستند اور جائز نہیں سمجھی جاتی جب تک کہ ایک مُغ اس کے لئے جواز کی سند نہ دیتا۔
(ایران بعہد ساسانیاں ،صفحہ 150)
موبدوں کا اثر و رسوخ محض ان کے روحانی اقتدار کی وجہ سے نہ تھا اور نہ اس لئے کہ وہ پیدائش، شادی اور موت اور قربانی وغیرہ کی رسموں کو ادا کرتے تھے بلکہ ان کی زمینوں جاگیروں اور اس کثیر آمدنی کی وجہ سے بھی تھا جو انہیں مذہبی کَفَّاروں، زکوۃ ، نذر و نیاز کی رقموں سے حاصل ہوتی تھی۔ اس کے علاوہ انہیں کامل سیاسی آزادی حاصل تھی۔ان کے بارے میں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ انہوں نے حکومت کے اندر اپنی حکومت بنا رکھی تھی۔میڈیا بالخصوص آذربائیجان ، مُغوں کا ملک سمجھا جاتا تھا وہاں ان لوگوں کی زرخیز زمینیں اور پر فضا مکانات تھے جن کے گرد حفاظت کے لئے کوئی دیوار نہیں بنی ہوتی تھی۔ پارتھیا کے آخری ایام میں مغوں کا تسلط ختم کر دیا گیا تھا اور ان کی اہمیت گھٹ گئی تھی یہاں تک کہ ان سے ان کی بڑی بڑی جاگیریں چھین لی گئی تھیں ان کے آتش کدے ویران ہو گئے تھے اور قربان گاہیں سنسان۔ لیکن ساسانی خاندان کے بر سرِ اقتدار آنے کے بعد اردشیر اول ساسانی خاندان کے بانی نے ان کو وہ پہلا مقام ارزانی کر دیا ان کی مذہبی بالا دستی اور اجارہ داری کے ساتھ ساتھ ان کی ثروت و خوشحالی کا دور بھی واپس آگیا۔ چنانچہ ول ڈیورانٹ لکھتا ہے۔ زرتشت مذہب کا سابقہ اقتدار اور اثر و رسوخ بحال کر دیا گیا مغوں کو ان کی جاگیریں واپس کر دی گئیں اور ان کے اس حق کو بھی بحال کر دیا گیا کہ وہ ہر شخص کی آمدنی کا دسواں حصہ کلیسا کے لئے وصول کریں سیاسی اثر و رسوخ میں بھی بادشاہ کے بعد دوسرا نمبر ان کا تھا۔یہ سارے اختیارات ماگی قبیلہ میں منحصر تھے۔جو ایران کی عملی اور فکری زندگی کو کنٹرول کرتے تھے۔ وہ مجرموں اور باغیوں کو دوزخ کی سزا کی دھمکیاں دیا کرتے تھے۔پوری چار صدیوں تک وہ اہل ایران کے قلوب واذہان پر حکومت کرتے رہے۔ ماگی قبیلہ کے پروہت اتنے دولتمند تھے کہ بسا اوقات بادشاہ ان سے قرض لیا کرتا تھا ہر مشہور شہر میں ایک آتش کدہ ہوتا جس میں مقدس شعلہ روشن رہتا جو کہ روشنی کے دیوتا کا نشان سمجھا جاتا، شر کے دیوتا اہرمن کے مقابلہ میں کامیابی فقط اس وقت ممکن خیال کی جاتی جب ماگی کی تائید انہیں حاصل ہوتی صرف وہی روحیں پاکیزگی اور تقدس کی رفعتوں کو پاسکتیں اور یوم محشر کی تکلیف دہ آزمائش سے نجات حاصل کر سکتیں اور جنت کی ابدی مسرتوں سے مالا مال ہو سکتیں، جنہیں ان مذہبی اجارہ دار ماگیوں کی دعائیں اور امدادیں حاصل ہوتیں۔
(دی ایج آف فیتھ، صفحہ 139)
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲