Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹

*قسط نمبر 6 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ :سوم)*

(ایران ~ حصہ سوئم)
(ایران کے مذہبی عقائد ~ حصہ دوئم)

یہاں وِل ڈیورانٹ کا ایک اقتباس نقل کر رہے ہیں۔امید ہے اس کے مطالعہ سے قارئین کو حقیقت حال سے پوری طرح باخبر ہونے میں مدد ملے گی، وہ لکھتے ہیں۔ زرتشت سے پہلے جو مذہب ایران میں رائج تھا اس میں متعدد خداؤں پر ایمان لانا ضروری تھا۔ سب سے بڑا خدا سورج دیوتا تھا جس کو “مترا ” کہا جاتا تھا۔ زمین اور اس کی زرخیزی کی دیوی کا نام “انیتا” تھا۔ ہوما اس مقدس بیل کا نام تھا جو ایک دفعہ مرگیا اسے پھر زندہ کیا گیا اس نے نوع انسانی کو اپنا خون پینے کے لئے دیا۔تاکہ اس کو دوام حاصل ہو جائےـ وہ لوگ جب اس بیل کی عبادت کرتے تھے تو پہلے ایک شراب پی کر خوب مست ہو جاتے تھے پھر اس کی پوجا کرتے تھے، یہ شراب “ہوما” نامی ایک بوٹی سے بنائی جاتی تھی جو ایران کے پہاڑوں کے دامن میں اگتی تھی۔ جب زرتشت نے ایرانی معاشرہ کو شرک اور فسق کی دلدل میں پھنسا ہوا دیکھا تو وہ غصے سے بے قابو ہو گیا اور اس نے مجوس کے مذہبی طبقہ کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیا اور بڑی شجاعت اور بہادری سے اس حقیقت کا اعلان کیا کہ: “لَيْسَ فِي الْعَالَمِ اِلَّا اِلٰهٌ وَّاحِدٌ” ترجمہ: کہ سارے جہاں میں صرف ایک خدا ہے اور وہ اہورا مزدا ہے جو نور اور آسمانوں کا خدا ہے۔
(قصۃ الحضارة ، صفحہ 425، جلد اول، جزثانی)

جس خداوند برتر کی تعلیم زرتشت نے دی اور خدا کا جو تصور زرتشت کے پیرو کاروں میں اس کے بعد رواج پذیر ہوا اس میں امتیاز کرنا ضروری ہے زرتشت نے جس خدا کی الوہیت کا پرچار کیا، وہ بڑا مہربان ساری کائنات کا خالق اور تمام صفات کمال سے متصف تھا، لیکن بعد کے زمانہ میں اھورامزدا کو اگرچہ تمام دوسرے معبودوں پر برتری اور فوقیت حاصل رہی، لیکن عبادت صرف اس کی نہیں کی جاتی تھی بلکہ اس کے علاوہ چھ دیگر غیرفانی اور مقدس ہستیاں تھیں جن کی پرستش کی جانے لگی تھی، بلکہ وہ مظاہر فطرت جن کی پرستش کو اس عظیم مصلح نے بالکل ختم کر دیا تھا وہ پھر واپس لائے گئے تھے اہورامزدا کے ساتھ ساتھ ان کی بھی پوجا کی جاتی تھی چنانچہ توحید خالص کے عقیدہ کی جو تبلیغ زرتشت نے کی تھی اس عقیدہ کو رفتہ رفتہ ترک کر دیا گیا اور قوم نے اپنی عبادت گاہوں میں ان پرانے بتوں کو بھی سجا کر رکھ دیا۔شرک اور کفر کے جس بھنور سے زرتشت نے اپنی قوم کو نکالا تھا اور توحید خداوندی کی جس شاہراہ پر انہیں گامزن کیا تھا وہ پھر اس سے بھٹک گئے۔
(ہسٹری آف پرشیا، صفحہ ۱۰۷)

اس حقیقت کو آرسی ذہینر (R. C. ZEAHNER) نے اپنی مشہور کتاب انسائیکلوپیڈیا آف لیونگ فیتھس ( زندہ مذاہب کا دائرہ معارف) میں سر پرسی (SIR PERCY) سے بھی زیادہ واضح انداز میں تحریر کیا ہے اس نے لکھا ہے ۔اس نے تمام قدیم خداؤں کو ایرانی عبادت گاہوں سے نکال دیا تھا۔اور صرف اہورامزدا یعنی خداوند علیم و حکیم کی وحدانیت کا عقیدہ اپنانے کی اہل ایران کو دعوت دی تھی، اگرچہ زرتشت کی وفات کے بعد پھر کئی قدیم خدا ان کی عبادت گاہوں میں گھس آئے تھے لیکن ان میں سے کوئی بھی اهورامزدا کی عظمت و کبریائی کی ہمسری کا مدعی نہ تھا۔اور جب زرتشت کا عقیدہ ایران کی ساسانی شہنشاہیت کا سرکاری مذہب تسلیم کر لیا گیا تو اس وقت زرتشتی مذہب کی دو صورتیں پہلو بہ پہلو مروج تھیں ایک صورت تو یہ تھی کہ جس طرح اہورامزدا نیکی کا خدا تھا۔ اس حیثیت سے اہرمن کو برائی کا خدا تسلیم کیا جاتا تھا۔ یعنی بیک وقت دو قادر مطلق خداؤں کا عقیدہ مروج تھا دونوں غیرفانی تھے اگرچہ ایک خیر کا خدا تھا اور دوسرا شر کا۔ دوسرا تصور یہ تھا کہ قادر مطلق خدا ایک ہی ہے جسے اھورامزدا کہا جاتا اور خیر و شر کی دو طاقتیں مخلوق طاقتیں ہیں اور ہر انسان کو یہ آزادی حاصل تھی کہ چاہے تو وہ خیر کے نمائندہ کے ساتھ اپنا تعلق قائم کرے اور چاہے تو شر کے نمائندہ کے ساتھ چنانچہ اپنی ایک مناجات میں زرتشت کہتا ہے ۔ اے خداوند حکیم! زرتشت اپنے لئے تیری روح کو منتخب کرتا ہے جو بہت ہی مقدس ہے اور زرتشت اپنے سامعین کو بتایا کرتا تھا کہ ہر انسان آزاد ہے مجبور و مقہور نہیں اسے اختیار ہے کہ وہ چاہے تو خیر کو اپنے لئے منتخب کر لے چاہے تو شر کو اپنے لئے پسند کرلے ۔
(انسائیکلوپیڈیا آف لیونگ فیتھس ،صفحہ 201 تا 202 مطبوعہ برطانیہ، طبع پنجم 1974ء)

ایک دوسرے فاضل ٹریور لنگ (TREVOR LING) جو مانچسٹر یونیورسٹی میں مقارنہ مذاہب کے پروفیسر ہیں اپنی کتاب دی ہسٹری آف ریلیجین ایسٹ اینڈ ویسٹ (مشرقی و مغربی ادیان کی تاریخ ) میں لکھتے ہیں۔ زرتشت کی مذہبی تعلیمات کا علم ہمیں “گاتھا” سے حاصل ہوتا ہے، جو گیتوں کی ایک کتاب ہے، جس میں زرتشت نے خداوند کریم کی بارگاہ میں اپنی نیاز مندیاں پیش کی ہیں اس سے پتہ چلتا ہے جیسے زرتشت کو اس بات کا یقین حاصل ہو گیا تھا کہ اللہ تعالی نے اسے چن لیا ہے تاکہ وہ اس کے بندوں تک سچائی کا پیغام پہنچائے ان گیتوں سے پتہ چلتا ہے کہ اس کی زندگی کا ایک ہی مقصد تھا۔کہ وہ اپنے ہم عصر لوگوں کو دوسرے معبودوں کی عبادت سے رہائی دلا کر ایک خداوند علیم و حکیم کی عبادت کی دعوت دے جسے اس کی زبان میں اہورامزدا کہا جاتا، زرتشت اپنے اس نظریہ کو بھی بڑی جرأت سے بیان کرتا کہ انسان مجبور محض نہیں بلکہ اس کو خیر و شر میں سے کسی ایک کو اختیار کرنے کی پوری آزادی حاصل ہے اور اس آزادانہ انتخاب کی بنیاد پر ہی اس سے باز پرس ہوگی اور اس کو جزا یا سزا کا مستوجب قرار دیا جائے گا۔
(دی ہسٹری آف ریلیجین، صفحہ 77 تا 78)

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top