Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹

*قسط نمبر3 بعثت نبویﷺ کے وقت نوع انسانی کی گمراہی کی حالت زار (حصہ دوم: آخری حصہ)*

اس سے پیشتر کہ اپنے کریم پروردگار کی توفیق سے اس آفتاب عالم تاب کی تابانیوں کا ذکر کریں جس نے بلندیوں اور پستیوں کو بقعہ نور بنا دیا۔جس کی روشن کرنوں سے زمین کا گوشہ گوشہ جگمگا اٹھا۔ ہم مناسب بلکہ ضروری سمجھتے ہیں کہ اس “ضَلَالٍ مُّبِیْنٍ” سے بھی اپنے قارئین کو روشناس کرائیں جس میں صرف کوئی فرد کوئی قبیلہ، یا کوئی قوم نہیں بھٹک رہی تھی بلکہ سارا عالم انسانیت اس کی شدید گرفت میں تھا اور کراہ رہا تھا۔ اور انسانی زندگی کا کوئی پہلو بھی ایسا نہیں رہا تھا، جسے فساد و عناد کی آندھیوں نے تباہ و برباد نہ کر دیا ہو، یہ تو ہمارے لئے ممکن نہیں کہ ہم کرہ زمین کے مختلف براعظموں میں پھیلی ہوئی انسانی آبادیوں کے حالات کا مکمل نقشہ آپ کے سامنے پیش کر سکیں، البتہ بتوفیق الہٰی یہ کوشش ضرور کریں گے کہ اُس وقت کی متمدن قوموں کے مذہبی، سیاسی، اخلاقی معاشرتی اور معاشی حالات کی ایک ایک جھلک آپ کو دکھا دیں تاکہ آپ عرب کے اس ماہ چہاردھم (چودھویں کے چاند) کے فیوض و برکات کا صحیح اندازہ لگا سکیں۔ جن سے اس نے اس بد مست مدہوش اور اپنی خوبیوں اور کمالات سے بے خبر اور بے بصر انسان کو بہرہ ور کیا۔ تبھی آپ اندازہ لگا سکیں گے کہ انسان کن پستیوں میں گر چکا تھا۔ اور اس “عَزِيْزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيْصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ ۝
ترجمہ: گراں گزرتا ہے اس پر تمہارا مشقت میں پڑنا، بہت ہی خواہش مند ہے تمہاری بھلائی کا مومنوں کے ساتھ بڑی مہربانی فرمانے والا اور بہت رحم فرمانے والا ہے۔ (سورۃ التوبۃ :آیۃ ۱۲۸) کی شان والے نبی ﷺ نے اس کو کہاں سے اٹھایا اور کن بلندیوں تک پہنچایا۔

دنیا کے نقشہ پر اگر آپ نظر ڈالیں تو آپ کو یہ فیصلہ کرنے میں کوئی دقت نہیں ہوگی کہ مکہ کا شہر اُس وقت کی معلوم دنیا کے نقشہ پر اس جگہ نظر آئے گا جیسے دل انسان کے جسم میں ہوتا ہے۔تمدن، حضارت، ثقافت اور شائستگی کی جو قندیلیں اس وقت ٹمٹما رہی تھیں، وہ اُن ممالک میں ہی تھیں جو اِس مرکز انسانیت کے قرب و جوار میں آباد تھے، مشرق میں ایران ہے، جس کے طویل و عریض خطہ پر کئی ہزار سال تک مختلف خاندانوں کی شہنشاہیت کا پرچم لہراتا رہا تھا۔ اس سے آگے مشرق کی طرف جائیں تو ہند کا برصغیر ہمیں نظر آتا ہے، جہاں حکمت و فلسفہ کی درسگاہیں لوگوں میں علم و شعور کی دولت تقسیم کر رہی تھیں، پھر اگر ایران و ہند کے شمال کی طرف نگاہ اٹھائیں تو ہمیں چین کا وہ عظیم ملک نظر آتا ہے جس کے رقبہ کی وسعت آبادی کی کثرت، علوم و فنون اور صنعت و حرفت کی ترقی اس وقت بھی قابل صد رشک تھی۔

اگر ہم جزیرہ عرب کے مغرب کی طرف دیکھیں تو ہمیں بازنطینی شہنشاہیت کے قیصر اپنی عظمت و برتری کا نقارہ بجاتے ہوئے نظر آتے ہیں جن کی وسیع و عریض سلطنت صدیوں سے دور دراز ممالک کو بھی اپنی گرفت میں لئے ہوئے تھی جہاں بڑے بڑے علماء و فضلا کی درسگاہیں جو در حقیقت علم و حکمت کی یونیورسٹیاں تھیں، اپنی برتری کا سکہ جمائے ہوئے تھیں اور جزیرہ عرب کے جنوب میں افریقہ کا براعظم تھا۔اس کا بیشتر حصہ اس وقت بھی جہالت ، بربریت اور وحشت کے اتھاہ اندھیروں میں غرق تھا۔لیکن اس براعظم کا ایک ملک جسے “مصر” کہتے ہیں، انسانی تاریخ کے تمام محققین کے نزدیک تہذیب و تمدن کا یہ اولین مرکز تھا چھٹی صدی عیسوی میں اگرچہ اس کی آزادی چھن چکی تھی اور وہ رومی سلطنت کا ایک مفتوحہ صوبہ تھا۔لیکن علم و فضل اور فلسفہ و حکمت میں اب بھی وہ کسی کو اپنا ہمسر نہیں سمجھتا تھا۔ اس وقت کی دنیا کے یہ چند ایسے ممالک تھے جن کو متمدن، مہذب اور علم و دانش کا گہوارہ ہونے کا غرور تھا۔اور اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنے باتدبیر حکمرانوں اور عالی ہمت اور بلند اقبال سپہ سالاروں کے باعث اپنی فتوحات کا دائرہ اتنا وسیع کر لیا تھاکہ جن کی وسعت کو دیکھ کر آج بھی حیرت ہوتی ہے اس لئے ہم یہ مناسب سمجھتے ہیں کہ بڑے اختصار و ایجاز کے ساتھ ان ممالک میں انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں کی ایک ایک جھلک قارئین کو دکھا دیں تاکہ یہ حقیقت آشکارا ہو جائے کہ علم و حکمت کے ان مدعیوں نے انسانیت کو ذلت کے کس گہرے گڑھے میں دھکیل دیا تھا۔ فتوحات کی بے مثال وسعتوں کے باوجود وہاں کے باشندے کس قسم کی محرومیوں اور مایوسیوں میں جکڑے ہوئے اور گھرے ہوئے زندگی بسر کر رہے تھے۔ان حالات کے بیان کرنے سے ہمارا مقصد قطعاً یہ نہیں کہ ہم کسی کی تضحیک یا تذلیل کرنا چاہتے ہیں فقط اپنے قارئین کو حقیقت حال سے آگاہ کرنا مقصود ہے تاکہ وہ اس سراپا یمن و برکت ہستی ﷺکے قدم رنجہ فرمانے سے انسانیت کے خزاں زدہ اور اجڑے ہوئے گلشن میں جو بہار آئی اس کا کچھ نہ کچھ تو اندازہ کر سکیں۔

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top